آپ کی معلومات

Showing posts with label علمی سفر نامے. Show all posts
Showing posts with label علمی سفر نامے. Show all posts

Tuesday, 28 May 2013

سفر امن پور۔فیصل آباد اورگوجرانوالا

0 comments

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفر امن پور پنڈی گھیپ چکوال
تقریبا ۲۰۰۲ میں ایک ماہ کے لئے سفر کیا تاکہ شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ سے استفادہ کیا جاسکے ایک ماہ شیخ سے آثارالسنن مکمل پڑھی بلکہ شیخ نے اس کا ردبھی لکھوایا اور شیخ ابن عثیمین کی کتاب القواعد المثلی کا ترجمہ بھی لکھوایا ۔فجزاہ اللہ ۔اس سفر میں علمی فائدہ ہوا اور اس گاوں میں کچھ عجیب و غریب اشیاء دیکھنے کو ملیں جو کہ سو سالہ پرانی تھیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفر فیصل آباد 
جامعہ رحمانیہ میں پانچوں کلاس میں تھا دورہ تفسیر کرنے لئے ستیانہ بنگلہ فیصل آباد کا سفر کیا اس میں استاد محترم محدث العصر شیخ عبداللہ امجد چھتوی اور استاد محترم اصولی شیخ ابونعمان بشیر احمدحفظھمااللہ سے مکمل قرآن مجید کی تفسیر پڑھی اور بہت زیادہ فائدہ ہوا ،اس دوران شیخ عبدالشکور شاہ رحمہ اللہ اور شیخ عتیق اللہ حفظہ اللہ نے ہماری خوب تربیت بھی جو کہ عام مدارس میں نہیں کی جاتی ۔اس دورہ تفسیر میں ایک سو کے قریب طلباء موجود تھے جن میں شیخ تنویر مدرس جامعہ دارالسلام منڈی واربرٹن ،شیخ نعمان فاروقی ،شیخ ندیم حفظھما اللہ ریسرچ سکالر دارالسلام لاہور وغیرہ بھی موجود تھے ۔
پھر تقریبا ۲۰۰۱ میں دوبارہ فیصل آباد کا سفر کیا اس سفر میں میرے ساتھ میرے استاد محترم میرے مربی اور مجھے علم سے آشنا کروانے والے شیخ عبدالرشید راشد رحمہ اللہ اور میرے دوست قاری عبدالروف بن یعقوب (حال استاد بونگہ بلوچاں )بھی ساتھ تھے اس سفر کا مقصد مرکز التربیۃ الاسلامیہ فیصل آباد میں داخلہ لینا تھا ۔اللہ کی توفیق سے انٹرویو ہوا داخلہ مل گیا پھر تین سال فیصل آباد کے محدثین سے استفادہ کیا مثلا شیخ ارشاد الحق اثری ،شیخ مسعودعالم ،شیخ حافظ محمد شریف ،شیخ عبدالعزیز علوی ،شیخ عبدالرزاق ساجد ،شیخ ادریس سلفی حفظھم اللہ وغیرھم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفرگوجرانوالا 
زمانہ طالب علمی شیخ نورپوری حفظہ اللہ سے ملاقات کی غرض سے سفر کیا اور ملاقات ہوئی پھر اگلے سال جامعہ محمدیہ گوجرانوالا میں ایک ماہ قیام کیا اور شیخ محترم کی مسجد میں درس بخاری میں شریک ہونے کاموقع ملتا رہا ۔اس کی ساری تفصیل راقم نے استاد محترم شیخ نورپوری رحمہ اللہ کی وفات پر اپنے مضمون میں لکھ دی تھی وہی تفصیل درج ذیل ہے ۔

سفر مکہ ومدینہ اور مکی ومدنی محدثین سے ملاقاتیں قسط 3 (آخری)

0 comments

عمرہ مکمل کیا اور اللہ تعالی کا بہت زیادہ شکریہ ادا کیا والحمدللہ علی ذلک 
مدینہ منورہ سے واپسی پر دوبارہ عمرہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ،والحمدللہ علی ذلک 
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعض مقدس مقامات کی زیارتیں کیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکہ مکرمہ میں جن محدثین سے ملاقاتیں ہوئیں 
دکتور وصی اللہ بن محمد عباس حفظہ اللہ مدرس الحرم المکی ومدرس جامعہ ام القری مکہ مکرمہ 
شیخ ندیم سلفی متعلم ماجستیر فی ام القری حفظہ اللہ نے شیخ محترم کو بتایا کہ پاکستان سے ابن بشیر الحسینوی بھائی آپ سے ملنا چاہتے ہیں انھوں نے ہمیں ٹائم دے دیا وہ مقررہ وعدہ کے مطابق حرم مکی میں درس حدیث دینے کے تشریف لائے اور ہمیں اپنی گاڑھی میں ساتھ اپنے گھر لے گئے ،کافی دیر ان کی بہت وسیع و عریض بیٹھک میں بیٹھے گفتگو کرتے رہے اور کھانا بھی اکٹھے کھایا 
پھر میں نے کہا کہ شیخ محترم اپنا مکتبہ بھی ضرور دکھائیں پھر وہ ہمیں بیسمنٹ میں لے گئے اوروہ بہت بڑا مکتبہ تھا کافی دیر اس میں گھومتا پھرتا رہا واپسی پر شیخ محترم نے اپنی کچھ کتب تحفہ میں پیش کیں ۔
فجزاہ اللہ خیرا ۔
اس مجلس میں مجھے بہت زیادہ فوائد ملے اور میں شیخ محترم سے کافی متاثر ہوا ۔
شیخ ابوالاشبال شاغف بہاری مکی حفظہ اللہ 
زمانہ طالب علمی سے شیخ محترم کا بہت نام سنا تھا خصوصا شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ ان کا بہت تذکرہ کرتے تھے اور شیخ محترم کے بعض مضامین ہفت روزہ الاعتصام میں پڑھنے کا موقع ملتا رہا ۔
شیخ ندیم سلفی حفظہ اللہ نے شیخ محترم سے وقت لیا کہ آپ سے ابن بشیر الحسینوی بھائی ملتا چاہتے ہیں انھوں نے ہمیں وقت دے دیا کہ فلاں دن فلاں وقت میرے گھر آجائیں ۔
ہم مقررہ وقت پر شیخ محترم کی رہائش گاہ میں پہنچ گئے اس سفرمیں ہمارے ساتھ شیخ محقق العصر عزیر شمس حفظہ اللہ بھی ساتھ تھے اور ڈرائیونگ بھائی سراج منیرمتعلم دارالحدیث مکہ مکرمہ کر رہے تھے ،طویل سفر کے بعد شیخ محترم بہاری مکی حفظہ اللہ کے پاس پہنچ گئے ان کی لائبریری میں ہی جا کر بیٹھے ماشاء اللہ بہت ہی منظم لائبریری پائی کیا مجال ہے کہ کوئی کتاب بے ترتیب سے پڑی ہو ۔
تقریبا دو گھنٹے کی نشست شیخ محترم سے ہوئی اس میں بے شمار عجیب وغٖریب تحقیقات سننے کو ملیں اور شیخ محترم بہت ہی دقیق النظر ہیں اور رجال و حدیث پر وسیع المطالعہ ہیں ۔اور صحیح بخاری اور امام بخاری کے شیدائی ہیں اس موقع پر شیخ محترم نے اپنی تصانیف بھی دکھائیں ۔فجزاہ اللہ خیرا ۔
شیخ عبد العظیم بن عبدالعلیم بستوی حفظہ اللہ 
شیخ ابوالاشبال شاغف بہاری مکی حفظہ اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ شیخ عزیر شمس حفظہ اللہ نے بتایا کہ شیخ عبدالعظیم حفظہ اللہ سخت بیمار ہیں تو شیخ شاغف بہاری مکی حفظہ اللہ نے کہا کہ مجھے کوئی اطلاع نہیں ،شیخ عزیر شمس حفظہ اللہ نے کہا کہ ہمیں ان کی تیمار داری کے جانا چاہئے تو شیخ شاغف بہاری مکی حفظہ اللہ نے کہا کہ ضرور جانا چاہئے وہاں ہی اسی وقت فیصلہ ہوگیا کہ ہم اکٹھے ابھی جاتے ہیں تو ہم نے فورا ان کی طرف سفر شروع کر دیا بھائی سراج منیر حفظہ اللہ ڈرائیونگ کر رہے ان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر شیخ شاغف بہاری مکی حفظہ اللہ کو بٹھا دیا اور ہم (شیخ عزیر شمس ،شیخ ندیم سلفی حفظہمااللہ اور راقم الحروف )پیچھے والی سیٹ پر بیٹ گئے اور کچھ دیر بعدشیخ بستوی حفظہ اللہ کے رہائش پر پہنچ گئے ان کے بیٹے نے بیٹھک کا دروازہ کھولااور بٹھا دیا اور اند ر اپنے والد محترم شیخ بستوی حفظہ اللہ کو اطلاع دی اور وہ شدید بیمار کی حالت میں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ہمارے پاس بیٹھک میں پہنچ گئے ان کی تیمار داری کی اور تقریباایک گھنٹہ ان کے پاس بیٹھے رہے بے شمار موضوعات پرگفتگو ہوئی ،میں نے انھیں علوم و فنون میں بہت پختہ پایا ،اور ان سے عجیب و غریب معلومات سننے کو ملیں ۔فجزاہ اللہ خیرا
شیخ عزیر شمس حفظہ اللہ 
شیخ محترم کے پاس تقریبا دس دن گزارنے کا موقع ملا روزانہ ہم اکٹھے ہوتے تھے نماز عصر سے لے کر رات گئے تک روزانہ اکٹھے ہوتے اکٹھے سفر کرتے اور مختلف مجلسوں میں اکٹھے بیٹھنے کا اتفاق ہوا 
راقم نے شیخ محترم کو بہت ہی صفات کا مالک پایا ایسی صفات بہت کم لوگوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں ،ان کے ارد گرد اکثر طلباء و علماء کا ہجوم رہتا ہے اور ان کا دروازہ طلباء علوم نبوت کے لئے ہر وقت کھلا رہتا ہے اور ان کی رہنمائی بے مثال نظر آئی اور ان کی فکر سلیم بہت ہی اجلی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور ان کے کارنامے تحقیقی و تصنیفی کام بطور معجزہ ثابت ہوتے ہیں ،وہ مدفون خزانوں کوعام کررہے ہیں فجزاہ اللہ خیرا ۔
اس قدر طلباء و علماء کہ رہنمائی کرنے والا میری آنکھوں نے کوئی نہیں دیکھا ،جن دنوں میں شیخ محترم کے پاس رہاان دنوں شیخ محترم کے اہل خانہ انڈیا گئے ہوئے تھے وہ خود ہی ہماری خدمت کرتے تھے ہمارے کہنے پربھی وہبے تکلفی سے پینے کی بعض اشیاء خود تیارکرتے تھے ،وہ علم کے خزانے بڑی تیزی سے نچھاور کرتے رہتے ہیں علم میں انھیں بحر بے کراں پایا ۔اور صاحب رائے مجتھد اور محنتی وان تھک انسان پایا جس کی پوری دنیا پر نظر ہے ۔فجزاہ اللہ خیرا 
شیخ محترم خود مجھے اپنی گاڑھی پر مکہ مکرمہکے مشہور مکتبے پر لے جہاں پر شیخ معلمی یمانی رحمہ اللہ کام کرتے رہے 
اسی طرح جس ادارے میں شیخ محترم کام کرتے ہیں دار عالم الفوائد اس کی بھی زیارت کروائی میں شیخ محترم سے بہت ہی متاثر ہوا ،اب جلدی دوبارہ حرمین شریفین کی زیارت کے لئے جانا ہے تاکہ حرمین کی سعادتوں اور مکہ ومدینہ کے محدثین سے فائدہ اٹھا سکوں ۔
مدینہ منورہ کے محدثین سے ملاقاتیں :
شیخ ضیاء الرحمن اعظمی حفظہ اللہ 
راقم نے شیخ کی عظیم ترین اور بے مثال کتاب الجامع الکامل فی الحدیث الشامل کی نو جلدوں پر کام کیا ،والحمدللہ ۔جب راقم مکہ مکرمہ پہنچا دارالسلام لاہور کے مینجر جناب عبدالعظیم اسد حفظہ اللہ نے مدینہ منورہ کے دارالسلام مینجر محترم جناب منیب کبریاء صاحب کو میرے سفر حرمین کی اطلاع دے دی اور کہا کہ حسینوی بھائی کی شیخ اعظمی صاحب سے ضرور ملاقات کروانا تاکہ جو حسینوی بھائی شیخ صاحب سے مناقشہ کر سکیں اور جو اعتراضات ہیں وہ شیخ پر پیش کر سکیں !!!
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ راقم کواس کتاب پر ملاحظات تھے جس کی دارالسلام لاہور کے مینجر جناب عبدالعظیم اسد حفظہ اللہ اطلاع ہوئی انھوں نے فورا مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ کو اس کتاب پر کیا اعتراض ہے تو راقم نے کچھ بیان کئے تو انھوں نے مجھے کہا وقت نکال کر دارالسلام لاہور آئیں ہم اکٹھے بیٹھتے ہیں مقررہ وقت پر راقم ان کے پاس پہنچا اور تقریبا دو گھنٹے ان سے بات کی اس سے ان کو کافی تشفی ہوئی یہ باتیں واقعۃ قابل اعتراض ہیں !!!
پھر جناب عبدالعظیم اسد حفظہ اللہ نے مجھے کہا کہ تم اب ایک جلد پر تنقیدی نظر سے کام کرو اور اعتراضات و اشکالات کا خاکہ تیار کرو اس میں تمھیں آزادی ہے ،راقم ان دنوں الجامع الکامل کی جلد نمبر ۹ پر کام کر رہاتھا ،راقم نے جلد نمبر ۹ پر تنقیدی کام کیا اورایک خطہ تیار کیا جو دارالسلام نے کمپوزنگ کروا کر شیخ اعظمی صاحب کو پیش کیا ۔۔۔۔۔۔۔
شیخ اعظمی صاحب نے میرے اعتراضات کو پڑھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انھیں دنوں اللہ تعالی سفر حرمین شریفین کی زیارت کی توفیق عطافرمائی 
دارلسلام نے راقم کی ملاقات شیخ اعظمی صاحب سے کروائی تاکہ جو اعتراضات ہیں ان پر بحث ہو سکے ۔۔۔۔۔اور تقریبا دو گھنٹے سے زیادہ ان اعتراضات پر بحث ہوئی والحمدللہ ۔
اس دورامجھے شیخ محترم سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا فجزاہ اللہ خیرا ۔
اور یہ علمی میٹنگ ان کی لائبریری مدینہ منورہ میں ہوئی ۔
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ 
مسجد نبوی میں شیخ محترم بلوغ المرام پڑھا رہے تھے راقم ان کے درس میں بیٹھا اور دیکھتا رہا ۔حفظہ اللہ ۔وہ بہت کمزور ہو چکے تھے ۔
شیخ ابوبکر الجزائری حفظہ اللہ
مسجد نبوی میں شیخ محترم کو تفسیر قرآن پڑھاتے ہوئے دیکھا وہ بہت ہی کمزور ہو چکے تھے بلکہ بولنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے تھے ان کا ایک شاگرد شیخ محترم کی تفسیر کی کتاب کی قراء ت کر رہا تھا اور شیخ محترم اپنے ہاتھ کو بار بار اوپر اٹھا رے تھے ۔حفظہ اللہْ 
یہ تھے وہ محدثین جن سے میری اس مبارک سفر میں ملاقات ہوئی ۔
لیکن اب پھر جلد ہی سفر حرمین کرنا ہے اللہ تعالی آسانی فرمائے پھر دیگر کئی ایک عرب محدثی سے استفادہ کرنا ہے ان شاء اللہ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, 25 May 2013

سفر مکہ و مدینہ ،مکی اور مدنی محدثین سے ملاقاتیں قسط 2

0 comments
تقریبا دو بج چکے تھے ہم بیدار ہوئے میں نے افسوس سے کہا کہ امی جی جمعہ ہم سے رہ گیا !جلدی اٹھیں اور چلیں بیت اللہ !
ہم اٹھے وضو کیا اور ہوٹل سے نیچے اترے اور کسی سے پوچھا :این بیت اللہ ؟بیت اللہ کہاں ہے ؟
تو اس نے جواب دیا کہ الی طول!اور اس طرف ہاتھ کا اشارہ کیا،میں سمجھ گیا کہ اس طرف ہے ہم نے چلنا شروع کردیا جب کبوتر والا چوک پر پہنچیں تو آگے سے بہت زیادہ لوگ آ رہے تھے کیونکہ جمعہ سے فارغ ہو کر لوگ آ رہے تھے ہم نے اس طرف جانا شروع کر دیا جب بن داود بلڈنگ کے اس کونے پر پہنچے جہاں کھجور کا درخت لگا ہوا ہے تو رش بہت زیادہ ہو گیا راقم نے اس قدر زیادہ رش اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا بڑی مشکل سے والدہ صاحبہ کو سنبھالہ تقریبا نصف گھنٹے کے بعد رش کم ہوا ۔میں اپنی ایڑھیوں کے اوپر کھڑا ہو کر بار بار دیکھ رہا تھا کہ بیت اللہ کہاں ہے کہیں نظر نہیں آرہا !!؟؟اچانک مجھے مسجد حرام کے باہر باب عبدالعزیز کے سامنے اوپر ٹھنڈی ہوا کے لئے لگے ہوے پنکھے نظر آئے میں نے خیال کیا کہ شاید اس کی دیوار کے پیچھے نہ ہو ؟؟!!!!
کیو نکہ یہ پہلی بار تھی اس لئے کوئی علم نہیں تھا !!!
پھر میں نے ایک آدمی سے پوچھا کہ بیت اللہ کہاں ہے ؟؟
اس نے سمجھایا کہ تم باب عبدالعزیز سے داخل ہو جاو پھر سیدھا چلتے جانا ہے جہاں مسجدحرام کی عمارت ختم ہوگی تب بیت اللہ آئے گا ،مجھے بہت خوشی ہوئی کہ ہم بس بیت اللہ کے قریب ہی کھڑے ہیں !!!پھر چلنا شروع کر دیا اور کافی چلے مسجد حرام بہت ہی خوبصورت انداز سے بنائی گئی ہے سبحان اللہ !
پھر جب عمارت ختم ہوئی اچانک نظر اوپر اٹھائی تو سامنے بیت اللہ نظر آیا ،اور نظر آتے ہی آنکھوں میں آنسووں شروع ہو گئے اور اللہ تعالی کی حمد بیان کی کہ جس ذات نے ہمیں اپنے مقدس گھر کی زیارت سے نوازا ہے ورنہ مجھ جیسے غریب آدمی کے لئے کیسے ممکن تھا یہ سب اللہ تعالی ہی کی مہربانی تھی ۔اور کھڑے کھڑے کافی دعائیں کیں جن میں ایک نیک بیٹے کی دعا کی تھی کہ اے اللہ مجھے نیک بیٹے کی نعمت سے نواز دے اور یہ بھی دعا کی مجھے اپنے گھر میں مستقل رکھ لے ۔۔۔۔والدہ صاحبہ بھی مسلسل رورو رہی تھیں اور دعائیں کر رہی تھیں ۔

Sunday, 5 May 2013

سفر مکہ ومدینہ اور مکی و مدنی محدثین سے ملاقاتیں قسط1

0 comments

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

۔۔۔۔۔۔۔
بچپن سے ہی حرمین شریفین کی زیارت کا شوق تھا بلکہ یاد کرکے رویا کرتا تھا جب بھی کوئی اہل علم دعا میں مکہ و مدینہ کی زیارت کے لئے دعاکرتا تو مجھے رونا آجاتا ،اگر کسی کے جانے کی اطلاع ملتی تو اور بے چینی ہوتی اور مسلسل دعائیں کرتا رہتا ۲۰۱۱میں ہمارے جامعہ کے شیخ الحدیث محمد یوسف قصوری حفظہ اللہ سفر حج کے لئے روانہ ہوئے انھیں الوداع کرنے کے لئے راقم ایئر پورٹ پر پہنچا تو ادھر کچھ اور ہی سماں نظر آیا کہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ حرمین شریفین جانے کے لئے ایئر پورٹ پر پہنچ چکے تھے تو اس وقت دل سے میری دعائیں کہ اے اللہ یہ سارے امیر لوگ ہیں اور میں غریب و مسکین ہوں ظاہر سفر حرمین ممکن نظر نہیں آتا لیکن تو ناممکن کو ممکن بنانے پر قادر ہے کافی دعائیں کیں اور اسی سال دارالسلام لاہور نے مجھ سے مسند احمد اور الجامع الکامل دونوں کتب پر کام کروایا اور اس کے عوض میں مجھے جو رقم دیتے رہے وہ میں جمع کرتا رہا ،ایک دن گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اہلیہ محترمہ نے کمپیوٹر پر مسجد نبوی کی تعمیر والی سی ڈی لگادی اور ہم دیکھنے لگے تو اسی کے دوران اہلیہ نے مجھے کہا کہ میرا ایک مشورہ ہے میں نے کہا جی بتائیں ؟وہ کہنے لگیں اب اللہ تعالی نے پیسے بھی دے دیئے ہیں تم اللہ تعالی کاگھر دیکھ آؤیعنی عمرہ کر آو۔
یہ با ت سن کر میں نے سے کہا کہ تم مذاق تو نہیں کررہی ۔تو کہنے لگیں کہ نہیں میں حقیقت میں کہہ رہی ہوں ،تو میں نے کہا کہ میں اکیلا نہیں آپ بھی ساتھ جائیں گی تو کہنے لگیں کہ اس دفعہ تم والدہ محترمہ کو ساتھ لے جاؤ پھر آئندہ مجھے ساتھ لے جانا میں اس پر راضی ہوگیا والحمدللہ۔
اس ارادے کے بعدمیں نے والدہ محترمہ کو خبر دی کہ ماں جی تیاری کرو ہم دونوں نے عمرہ کے لئے جانا ہے والدہ محترمہ یہ بات سن کر بہت خوش ہوئیں اور کافی ساری دعائیں دیں ،او ر سب اہل و عیال کو بتادیا کہ میرا بیٹا محمدابراہیم مجھے عمرہ کروا رہا ہے اس طرح سب خاندان نے دعائیں کیں اور بغیر سوچے سمجھے اللہ تعالی نے ماں اور بیٹے کے تمام سازو سامان مکمل کر دئیے والحمدللہ ۔
ایک دن میں شیخ محترم شفیق الرحمن فرخ حفظہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور میں نے کہا کہ شیخ صاحب میرا ذاتی گھر بھی نہیں تھا وہ بنانے کا ارادہ تھا لیکن اب نیت عمرہ کی ہے دعا کرنا تو شیخ محترم نے انتہائی وزنی بات کی اور فرمایا کہ تم اللہ تعالی کے گھر کی فکر کرو اور زیارت کرو اللہ تعالی تمھارے گھر کی فکر کرے گا اور وہ تمھارا گھر بھی بنوا دے گا ۔ان شاء اللہ ۔سبحان للہ مجھے یہ بات بہت اچھی لگی ،اور اللہ تعالی کی مہر بانی سی اسی سال ہی اللہ تعالی نے ہمت عطافرمائی کہ اپنا ذاتی گھر بھی تعمیر کر لیا والحمدللہ ۔میں نے شیخ محترم کے قول کو سچا دیکھ لیا ۔
لاہور ایئر پورٹ پر :
جہاز کی ٹکٹ کی تاریخ کے مطابق ہم ایئر پورٹ لاہور پر پہنچے مجھے الوداع کرنے والوں میں سے میری بیٹی رمیثہ بھی ساتھ تھیں ،اس بے چاری کا ذہن تھا کہ ایئر پورٹ لاہور پر عمرہ ہوتا ہے اس سے پوچھا گیا کہ بیٹی تم نے کیا عمرہ کرلیا ہے کہنے لگی کہ ہاں کر لیا ہے ،ادھر ہم اسی لئے آئے ہیں ! بعد میں سے سمجھایا گیا کہ عمرہ مکہ مکرمہ میں ہوتا ہے ۔یہ ایک بچوں کا لطیفہ تھا اس لئے مناسب سمجھ کر ذکر کر دیا ۔
تھوڑی دیر بعد ایئر پورٹ کے اندر داخل ہوگئے ،پھر کچھ دیر بیٹھے رہے اور اعلان ہوا کہ حاجی حضرا ت احرام باندھ لیں فلاں وقت جہاز روانہ ہوگا۔راقم نے سوچا کہ جب دیگر لوگ احرام باندھنا شروع کریں میں بھی باندھ لوں گا تو دیکھتے ہی دیکھتے ایئر پورٹ میں ہر طرف احرام باندھ کر لوگ چل پھر رہے ہیں ۔تو میں نے بھی احرام باندھ لیا ۔
احرام کے موقع پر کچھ توجہ طلب باتیں:
میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ احرام باندھ کر دو رکعت کا اہتمام کررہے تھے حالانکہ احرام باندھنے کی وجہ سے دو رکعت نماز پرھنا ثابت نہیں ۔
اسی طرح بعض لوگ دوسروں کو سمجھا رہے تھے کہ اپنے جوتے تبدیل لکرو اور چپل جوتا پہن لو !حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ،بلکہ ٹخنو ں کو ننگا رکھنا ہے جوتا جیسا مرضی پہنا ہو ،اس وقت راقم نے بعض ان پڑھ مفتیوں کو سمجھایا کہ اس طرح فتوے نہ دو ،کوئی حرج نہیں پھر وہ خاموش ہو گئے ۔
ایئر پورٹ پر ایک نابینا قاری صاحب سے ملاقات:
میں احرام باندھ چکا تھا بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میں نے ایک قاری صاحب کو دیکھا کہ وہ میرے پیچھے کھڑے ہیں میں نے ان سے ملا ان کا نام پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ میں قاری اکبر اسد آف چونیاں سے ہوں میں یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اپنا تعارف کروایا وہ کہنے لگے کہ تم ہو ابن بشیر ،پھر میں نے کہا کوئی حکم میرے لائق ہو میں حاضر ہوں ،تو انھوں نے کہا کہ مجھے احرام باندھنے کا طریقہ نہیں آتا مجھے طریقہ سمجھا دیں تاکہ احرام باندھ لوں ،پھر میں نے ان کو احرام سمجھا دیا بلکہ باندھنے میں ان کی مدد کی ۔والحمدللہ ۔
جہاز کے اندر:
چند لمحوں بعد لوگ قطار میں کھڑے ہونے شروع ہوگئے اور پھر آہستہ آہستہ جہاز میں داخل ہونے لگے ،افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ جہاز کے دروازے عمرہ کرنے والوں کو موسٹ ویلکم کہنے کے لئے چند نوجوان اور اکثر خوبصورت بے پردہ نوجوان لڑکیاں کھڑی ہوئی تھیں ،اور پھر سارے سفر میں وہی مسلمانوں کے ایمانوں سے کھیلتی رہیں ،اس طرح نہیں ہونا چاہئے بلکہ خدمت پر لڑکوں کی ہی ڈیوٹی لگائی جائے ۔تاکہ ایمان اور اسلام محفوظ رہ سکے نظر کی حفاظت ہو سکے ۔
سارا سفر پر سکون رہا بلکہ جب جہاز اوپر یا نیچے ہوتا تھا تو مجھے رونا بھی آجاتا تھا بلکہ ڈر لگتا تھا اللہ تعالی کی مہربانی سے سفر پر سکون رہا اور سفرمیں میرے پاس چند قیمتی کتب تھیں ان کا مطالعہ کرتا رہا ۔وقت ضایع نہ ہونے دیا ۔
الریاض ایئر پورٹ پر :
ایک گھنٹہ کے لئے جہاز یہاں اترا جہاز کے اندر بیٹھے ہی اس ایئر پورٹ کو دیکھنے کاموقع ملا بہت بڑا ایئر پورٹ تھا ۔
جدہ ایئر پورٹ پر:
الریا ض سے جدہ تقریبا ایک گھنٹہ کا سفر ہے جب جدہ جہاز اترا تو بہت زیادہ اللہ تعالی کی تعریف کی کہ ہم خیر وعافیت کے ساتھ جدہ پر پہنچ چکے ہیں ۔جدہ ایئر پورٹ بھی بہت بڑا تھا ،یہاں سے مکہ مکرمہ جانے کے لئے گاڑی پر بیٹھایا گیا تو ایک پاکستانی بزرگ بھی بیٹھے ان کے ساتھ اہل وعیال بھی تھے گاڑی سے اترے اور مجھے کہنے کہ میں نماز پرھ کے آتا ہوں گاڑی کو روکنا !؟میں نے کہا ٹھیک ہے ۔
وہ بزرگ ابھی گئے ہی تھے اسی وقت ڈرائیور صاحب نے گاڑی چلانی شروع کر دی تو میں ان سے بات کی کہ ایک بزرگ نماز پڑھنے گئے ہیں ان کا انتظار کرنا ہےَ وہ ڈرائیور عربی تھا اور بہت سخت مزاج تھا اس نے میری ایک نہ سنی اور گاڑی دوڑا دی !میں نے اس کو عربی میں بہت سمجھایا کہ وہ بزرگ ان پڑھ ہے اس کے پاس کاغذات بھی نہیں ہیں وہ تو پریشان ہو گا گاڑی واپس کریں اور اسے بیٹھا کر لائیں گاڑی میں تمام مسافروں نے میری تائید کی اور ڈرائیور کو ڈانٹا ،آخر کار ڈرائیور کے دل میں رحم آیا اور کافی آگے سے گاڑی کو واپس کیا اور جدہ ایئر پورٹ پر بزرگ کو بیٹھا کر مکہ مکرمہ کی طرف سفر شروع کیا ۔
جدہ سے مکہ مکرمہ کی طرف:
تہجد کے وقت ہمارا سفر جدہ سے مکہ مکرمہ کی طرف شروع ہوا جب گاڑی چلی تو دل کی کیفیت عجیب و غریب تھی زبان پر اللہ تعالی کی تعریف و تسبیح و تحمیدوتکبیر کے کلمات جاری تھے اور آنکھیں نم تھیں کہ جلدی ہی بیت اللہ کا دیدار ہونے والا ہے اورانبیاء کرام کی سرزمین ام القری مکہ مکرمہ کی زیارت ہونے والی ہے ،وہ سرزمین جس کی محبت امت مسلمہ کے دلوں میں ڈال دی گئی اور اس سے محبت کرنا ایمان کا حصہ بنا دیا گیا ہے ۔رستے میں ایک مقام پر گاڑی کھری ہوئی او رتمام مسافروں نے نماز فجر ادا کی ،پھر سفر شروع ہو گیا میں نے بعض ساتھیوں سے پوچھا کہ مکہ مکرمہ کتنی دور ہے انھوں نے کہا کہ صرف آدھے گھنٹے کاسفر باقی ہے دل اور بے چین ہوگیا ۔اسی اثناء تھکاوٹ کی وجہ سے مجھے نیند آگئی ۔۔۔
ام القری مکہ مکرمہ میں جب میں بیدار ہوا !
ایک جگہ پر گاڑی رکی والدہ محترمہ نے مجھے بیدار کیا اور کہا کہ بیٹا لگتا ہے کہ ہم مکہ مکرمہ آگئے ہیں ،میں بیدار ہوا اور باہر دیکھا تو اونچی اونچی عمارتیں نظر آئیں یہ سفر چونکہ پہلی مرتبہ تھا اس لئے یقین نہ ہوا قریبی ساتھی سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ہاں ہم مکہ مکرمہ میں پہنچ گئے ہیں والحمدللہ
مکہ مکرمہ گاڑی سے اترے تو ایک حبشی نے کہا کہ میں آپ کے ہوٹل والے کو فون کرتاہوں وہ چند منٹوں تک آپ کو لے جائے گا انتظار میں چند منٹ چند گھنٹوں مین تبدیل ہو گئے تقریبا گیارہ بجے ہم اپنے ہوٹل می پہنچے یہ ہوٹل سوق الھجرۃ پر موجود مسفلی کبری کے متصل تھا ،ہوٹل میں پہنچ کر والدہ صاحبہ کو کافی بھوک لگ چکی تھی پہلے کھانا کھایا پھر والدہ صاحبہ نے کہا کہ تھوری دیر آرام کرنا ہے پھر جاتے ہیں بیت اللہ ۔

Friday, 22 March 2013

سید نذیر حسین محدث دہلوی اور مولانا محمد عبدالرحمن محدث مبارکپوری کے شاگرد مولانا محمد حیات لاشاری سندھی سے ملاقات

0 comments


راقم جامعہ لاہور الاسلامیہ لاہور المعروف جامعہ رحمانیہ کی درجہ خامسہ میں زیرتعلیم تھا (تمام اساتذہ سے ہی قریبی تعلقات تھے لیکن استاد محترم شیخ عبدالرشید راشد رحمہ اللہ سے خصوصی تعلق تھا کیونکہ وہ مجھے لکھنے کی ترغیب دیتے اور مختلف چیزیں لکھواتے رہتے تھے پھر ان کو چیک کرواتا تو بہت خوش ہوتے اور خصوصی دعاوں سے نوازتے رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ ،روئے زمین پر میرے بہت بڑے محسن تھے )
ایک دن استاد محترم شیخ عبدالرشید راشد رحمہ اللہ نے مجھے بتایا کہ ہم نے سندھ ایک علمی سفر کرنا ہے ادھر شیخ نذیر حسین محدث دہلوی کے ایک شاگرد سے ملاقات کرنی ہے
اور ان سے سند لینی ہے تم بھی ساتھ چلو ،میں نے پوچھا ۔استاد جی کتنا خرچہ پاس ہونا چاہئے توانھوں نے فرمایا :ایک ہزار کافی ہے ،میں اسی دن استاد محترم شفیق مدنی حفظہ اللہ سے چھٹی لے کر اپنے گاوں گیا اور والدہ محترمہ سے ایک ہزار روپے طلب کئے انھوں نے مجھے اسی وقت ایک ہزار روپے دے دیئے اور دعاوں کے ساتھ رخصت کیا ۔
مدرسہ پہنچا تو استاد محترم عبدالرشید راشد رحمہ اللہ نے بتایا کہ ٹکٹیں حاصل کر لی ہیں کل روانگی ہے اگلے دن تمام احباب ریل گاڑھی پر سوار ہو گئے اور سفر شروع ہو گیا اس سفر میں استاد محترم شیخ رمضان سلفی نائب شیخ الحدیث جامعہ رحمانیہ ،شیخ عبدالرشید راشد رحمہ اللہ ،شیخ آصف اریب افغانی حفظہ اللہ ،شیخ عبدالرب حفظہ اللہ ،بھائی سرور الہی بن نور الہی ،بھائی مرزا عمران حیدر ،بھائی حافظ ریاض آف کنگن پور اور راقم الحروف شریک تھے ۔
سفر بہت پر سکون ہوا ملتان پر ریل گاڑھی رکی نیچے اترے اور نماز ادا کی کھانا کھایا ۔اس سفر کی خاص بات یہ ہے کہ تمام اساتذہ کرام اور بھائی باری باری برتھ پر آرام بھی کرتے رہے اور باتیں بھی ہوتی رہیں لیکن استاد محترم شیخ عبدالرشید راشد رحمہ اللہ الگ اکیلی سیٹ پر سارے سفر میں بیٹھے رہے اور تمام احباب کے کہنے پر نہ ہی برتھ پر آرام کے لئے گئے اور نہ ہی سارے سفر میں کسی سے بات کی ،بس خاموشی سے بیٹھے رہے اور ذکر و اذکار میں مصروف رہے ۔رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ ۔
روہڑی پر پہنچے تو ادھر ہی اترنا تھا سخت سردی تھی رات کے تقریبا دو بج چکے تھے ادھر سٹاپ پر بھائی عبدالستار سندھی ہمارا انتظار کر رہے تھے ،وہ ہمیں دیکھتے ہی بہت خوش ہوئے اور اسی وقت ہوٹل سے چائے اور انڈے کھلائے ،بھائی عبدالستار نے دو کاروں کا اہتمام کر رکھا تھا ،اسن پر سوار ہوئے اور سفر شروع ہو گیا بھائی عبدالستار نے بتایا کہ پہلے ہم مولانا محمد حیات لاشاری صاحب کے پاس جائیں گے پھر کوئی آگے پروگرام بنائیں گے ۔
غالبا جیکب آباد میں لاشاری صاحب رہتے تھے ان کے گاوں پہنچے تو ان کے بیٹے ہارون سے ملاقات ہوئی وہ بھی بوڑھے تھے انھوں نے کہا کہ ابو جی تو کہیں گئے ہوئے ہیں ۔
ہم نے کہا کہ ہم نے ان سے ملنا ہے ہمیں ان کے پاس لے چلو تو وہ راضی ہو گئے ،اور ہمارے ساتھ کار میں سوار ہوئے ،میں ان کےساتھ بیٹھا تھا ،راستے میں نے ان سے مختلف سولات کئے ایک سوال یہ کیا کہ ابو جی کی گھر میں کیا مصروفیات ہیں تو انھوں نے کہا کہ گھر میں بس مطالعہ کرتے رہتے ہیں ،ابو جی کی عمر کتنی ہے ؟ہارون صاحب نے کہا کہ اس وقت ابو جی کی عمر ١٢٣ سال ہے ۔اور اب ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ایک ٹانگ پر چوٹ آئی ہے اس لئے زیادہ چل پھر نہں سکتے ۔تقریبا ایک گھنٹے کے بعد مولانا محمد حیات لاشاری سندھی رحمہ اللہ کے پاس پہنچ گئے گاڑیاں ایک لکڑی کی دکان کے باہر کھڑی کی گئیں
پوچھنے پر بتایا گیا کہ لاشاری صاحب اندر بیٹھے ہوئے ہیں ،ہم دکان کے صحن سے گزرتے ہوئے اندر داخل ہوئے تو سامنے ایک سفید لمبی داڑھی والے نہایت کمزور حالت میں ،اونچے قد و قامت والے ،نہایت خوبصورت شکل و صورت میں بزرگ چارپائی پر بیٹھے ہوئے ہیں آگے بڑھے تو وہ ہمیں بڑے اچھے اخلاق سے ملے یہ تھے سید نذیر حسین محدث دہلوی کے شاگرد مولانا محمد حیات لاشاری سندھی رحمہ الل

جس کمرے میں محمد حیات لاشاری سندھی رحمہ اللہ بیٹھے ہوئے تھے اس کی حالت یہ تھی ایک چارپائی تھی اور ادھر ایک آدمی لکڑی کی چارپائی وغیرہ بنا رہاتھا اور کمرے کی ایک جانب چھوٹی سی دینی کتب کی لائبریری تھی۔لاشاری صاحب پرکمزوری کی وجہ سے رعشہ طاری تھا یعنی ان کے ہاتھ ،چہرہ اور دیگر اعضاء مسلسل کانپ رہے تھے ،انھوں نے مختصر سی خدمت کی چائے وغیرہ پیش کی ،
اس سے فارغ ہو کر استاد محترم شیخ عبدالرشید راشد آگے بڑھے اور لاشاری صاحب سے کہا کہ 
یہ جماعت اہل علم کی لاہور سے آپ کے پاس تشریف لائی ہے اور ہم نے سنا ہے کہ تم سید نذیر حسین محدث دہلوی کے شاگرد ہو اس لئے تمہاری سند عالی ہے ہم آپ سے سند حدیث لینے آئے ہیں ؟
لاشاری صاحب:ٹھیک ہے میں آپ کو سند حدیث کی اجازت دیتا ہوں آپ مجھ سے روایت کر سکتے ہیں ۔اور سند تو شیخ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب کے پاس کراچی میں ہے ان سے منگوا لیں ۔
شیخ رمضان سلفی حفظہ اللہ :محترم آپ ہمیں عبارت لکھوا دیں تاکہ ہم وہ لکھ کر آپ کے دستخط کروا لیں پھر اس جماعت کے کے نام لکھ کر آپ کو سناد یتے ہیں ۔
لاشاری صاحب :جی لکھیں ،یہ جماعت علماء کی لاہور سے میرے پاس آئی ہے اور یہ مجھ سے سند حدیث کی اجازت چاہتی ہے تو میں ان تمام کو اجازت دیتا ہوں ،عبداللہ ناصر رحمانی صاحب سے گزارش ہے کہ ان کو میری سندیں دے دیں ۔
بھائی سرور الہی بن نور الہی آف کراچی فاضل مرکز التربیۃ الاسلایۃ مدرس جامعہ ابی بکر کراچی :شیخ صاحب میری عبداللہ ناصر رحمانی سے ملاقات ہے میں کراچی میں جا کر ان سے وصول کر لوں گا ان شاء اللہ ۔
شیخ عبدالرشیدراشد رحمہ اللہ :سند پر لاشاری صاحب کے دستخط ہونے ضروری ہیں تاکہ تصدیق ہو ۔
بھائی سرور الہی بن نور الہی :جی شیخ میں کراچی سے واپسی پر دستخط کرو اکے اسانید لاہور لیتا آوں گا ۔
شیخ عبدالرشید راشد رحمہ اللہ :یہ ٹھیک ہے ۔
شیخ رمضان سلفی حفظہ اللہ :لاشاری صاحب یہ میں نے ان تمام ساتھیوں کے نام لکھے ہیں اور عبارت بھی لکی ہے ذرہ سن لیں پھر اپنے دستخط کر دیں ۔
لاشاری صاحب :جی سنائیں ۔
شیخ رمضان سلفی حفظہ اللہ :نے وہ عبارت اور تمام ساتھیوں کے نام پڑھ کر سنائے 
شیخ عبدالرشید راشد رحمہ اللہ :شیخ صاحب میرے دو دوست سعودی عرب میں ہیں انھوں نے بھی مجھے کہا ہے کہ ہمارے لئے بھی وہ اسا نید حاصل کرنی کیا انھیں بھی اجازت ہے ؟
شیخ لاشاری :جی ان کو بھی مجھ سے روایت کرنے کی اجازت ہے ۔
شیخ آصف اریب حفظہ اللہ :عربی میں سوالات کرتے ہیں 
١:شیخ صاحب کیا آپ نے مستقل سید نزیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ سے پڑھا ہے ؟
شیخ لاشاری عربی میں جواب دیتے ہیں )میں نے مستقل نہیں پڑھا ۔
٢:پھر آپ اجازت کیسے ان کی سند سے روایت کرتے ہیں ؟
شیخ لاشاری :انھوں نے اپنی زندگی کے آخر میں اجازہ عامہ دیا تھے اور کہا تھا کہ جو بھی عالم دین میری زندگی میں زندہ ہے میں اس کو اجازت دیتا ہوں وہ میری سند سے حدیث روایت کر سکتا ہے تو وہ اجازہ مجھےبھی حاصل ہے ۔
بھائی مرزا عمران حیدر ٌشیخ کیا آپ نے ان کو دیکھا بھی ہے ؟
شیخ لاشاری :جی میں نے دہلی کا سفر کیا تھا اس وقت میں ان کے پاس حاضر ہوا تھا ،تو ان سے مستقل پڑھا نہیں لیکن ان کے درس میں شریک ہوا تھا ۔
راقم الحروف :شیخ آپ کو کیسے شوق پیدا ہوا کہ آپ نے سید نذیر حسین محدث دہلوی کی طرف سفر کیا ؟
شیخ لاشاری :میں نے ان کا نام بہت سنا تھا کہ وہ بہت بڑے محدث ہیں اس لئے مجھے شوق پیدا ہوا کہ ان سے ملنا چاہئے ۔
راقم الحروف :شیخ ،سید نزیر حسین محدث دہلوی کی شکل و صورت کسی تھی ؟
شیخ لاشاری :میں نے انھیں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نضر اللہ امرا کا صحیح مصداق پایا ہے ،ان کا چہرہ پر رونق تھا اور بہت ہی خوبصورت تھے قد لمبا تھا جسمانی لحاظ سے کمزور تھے ۔
راقم الحروف :شیخ ان کی کوئی بات یاد ہو آپ کو تو بتائیں ؟
شیخ لاشاری :انھوں نے منبر پر بیٹھ کر نصیحت کی تھی اپنے طلباء کو کہ بعض لوگ قرآن و حدیث کو عام نہیں کرنے دیتے بس میرے شاگردو پوری دنیا میں قرآن و حدیث کو عام کر دو ۔

اس کے بعد اساتذہ کرام نے اجازت چاہی کہ آپ کا بہت شکریہ اب ہمیں اجازت دیں تو اسی دوران ایک سندھی نوجوان حاضر ہوا اور آ کر کہنے لگا کہ شیخ صاحب علماء کرام موجود ہیں تمام مل کر میرے لئے دعا ء کر دیں تو شیخ لاشاری نے مختصر سی دعا کی ۔
اس کے بعد واپسی کا پروگرام بنا ،تو بعض ساتھیوں نے کہا کہ ہم نے اب عبدالستار سندھی بھائی کے گھر ہی جانا ہے کیوں نہ ہم شیخ لاشاری کو بھی اپنے ساتھ لے چلیں تا کہ اور فائدہ اٹھائیں تو شیخ لاشاریبھی اس پر خؤش ہو گئے وہ بھی ہمارے ساتھ عبدالستار سندھی کے گھر تک چلے گئے 

 عبدالستار سلفی کے گاوں میں پہنچے تو مسجد میں قیام کا اہتمام کیا گیا تھا ،مسجد میں جانے کے لئے ایک عارضی سی پل بنائی گئی تھی جس سے شیخ لاشاری رحمہ اللہ نہیں گزر سکتے تھے ان کو دو ساتھیوں راقم الحروف اور عبدالستار سلفی کے بھائی کے اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر پل سے گزارا ۔
رات یہاں ٹھہرے اور یہاں بھی لاشاری رحمہ اللہ سے مختلف سوالات ہوئے جو مجھے اب یاد ہیں وہ درج ذیل ہیں 
راقم الحروف :شیخ صاحب آپ نے مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کو دیکھا ہے ؟
شیخ لاشاری رحمہ اللہ :ہاں دیکھا ہے بلکہ ان سے باقاعدہ پڑھا بھی ہوں ۔
راقم الحروف :اچھا آپ نے ان سے کیا پڑھا ہے ؟
شیخ لاشاری رحمہ اللہ :میں نے ان سے صحیح بخاری کا کچھ حصہ پڑھا ہے ۔
راقم الحروف : آپ نے محدث مبارکپوری کو کیسا پایا ؟
شیخ لاشاری رحمہ اللہ :مجھے ایسے لگتا ہے جیسے انھیں سنن الترمذی زبانی یاد ہے وہ ماشا ءاللہ سنن الترمذی کی روایات زبانی پڑھتے جاتے تھے ۔
یہاں صبح کے بعد تمام اساتذہ نے واپسی لاہور کی تیاری شروع کر دی ،میں نے بھائی سرور الہی بن نور الہی حفظہ اللہ سے کہا کہ میں شیخ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کے مکتبہ جانا چاہتا ہوں اس میں میری رہنمائی کریں ؟
بھائی سرور الہی بن نور الہی حفظہ اللہ نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ جاتا ہوں لائبریری میں چھوڑ کر آگے کراچی چلا جاوں گا اس پر میں بہت خوش ہوا ۔
صبح میں نے تمام اساتذہ سے کہا کہ اب شیخ بدیع الدین رحمہ اللہ کی لائبریری میں چلیں مگر سب نے معذرت کی اور استاد محترم شیخ عبدالرشید راشد رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھے رستے میں ایک ضرری کام ہے وہاں میں نے ٹھہرنا ہے ورنہ ضرور آپ کے ساتھ جاتا۔رحمہ اللہ ۔ اسی دن راقم نیو سعید آباد مکتبہ راشدیہ پہنچ گیا اور شیخ لاشاری بھی رات کو ادھر پہنچ گئے پھر ہم تقریبا تین دن اکٹھے رہے ۔
شیخ لاشاری اہل حدیث کیسے ہوئے ؟

ہم نے سوال کیا :آپ شروع سے ہی اہل حدیث تھے ؟
لاشاری صاحب :نہیں پہلے میں مقلد تھا شاہ بدیع الدین کا مولوی عبدالکریم سےمناظرہ تھا اس مناظرہ میں ،میں بھی شریک تھا شاہ صاحب کتابوں کے ڈھیر اپنے ساتھ لے کر آئے اور مولوی عبدالکریم ایک رقعے ہر چند حوالے لکھ کر لایا تو مقلدوں نے مولوی عبدالکریم سے کہا کہ تم کسی بہانے نکل جاو ورنہ تم ہمیں ذلیل کرو گے کیونکہ تمہارے پاس کچھ بھی نہیں ہے بس نکلو یہاں سے ہم مناظرہ ختم کروا دیں گے ۔
ایسا ہی ہوا ،تو شاہ بدیع الدین نے کہا :
لوگو !مناظرہ نہیں ہو گا آپ سے گزارش ہے کہ میری تقریر سنیں اور میں فاتحہ خلف الامام ہی کے مسئلے پر گفتگو کروں گا ۔تمام لوگ بیٹھ گئے اور شاہ صاحب نے تقریر کرنی شروع کی تو دلائل کے انبار لگا دئیے اور احناف کے دلائل کی حقیقت بیان کر رہے تھے ہر ہر بات کتاب دکھا کر کرتے تھے تو مقلدین نے سوچا کہ کام تو خراب ہو گیا لوگ تو اہل حدیث ہو جائیں گے کچھ کیا جائے ،اس پر مقلدین نے پیچھے سے بجلی کی تار کاٹ دی اور سپیکر بند ہو گیا ۔لیکن شاہ صاحب نے مسلسل تقریری جاری رکھی ،تو ان کی تقریر سن کچھ افراد اہل حدیث ہوئے جن میں ایک میں تھا ۔
اس وقت میں نے سوچا کہ آج کے مقلدین تو لوگوں کو قرآن و حدیث سننے سے روک رہے اسی لئے تو بجلی کی تار کٹوائی ہے یہ تو ایسے ہی ہے جیسے مکہ کے لوگ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو قرآن و حدیث بیان کرنے سے منع کرتے تھے ۔
اس بات نے مجھے اہل حدیث کر دیا ۔
شیخ لاشاری نیو سعید آباد میں :

راقم ادھر پہنچ گیا اور اس وقت مکتبہ کے منتظم اسلم صاحب تھے بھائی سرور الہی بن نور الہی مجھے ان کے اور شیخ بدیع کے پوتے عطاو الرحمن کے پاس مجھے چھوڑ کر خود کراچی روانہ ہوگئے تو اسی دن شام کو شیخ لاشاری بھی مکتبہ میں پہنچ گئے یہ مکتبہ علمی میراث شاہ بدیع الدین راشدی رحمہ اللہ کی تھی جہاں بیٹھ کر انھوں نے پوری دنیا کو سیراب کیا والحمدلل
یہاں پر جو میں نے لاشاری صاحب سے سوال کیا ہے وہ یہ ہے :
شیخ صاحب کونسی کتب کا مطالعہ بار بار کرنا چاہئے ؟
شیخ لاشاری :میں نے دو کتابوں کا مطالعہ بار بار کیا ہے اور بہت زیادہ فائدہ ہوا ہے ۔١:تحفۃ الاحوذی شیخ مبارکپوری رحمہ اللہ کی ٢:توضیح الکلام شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی ،طالب علم اور عالم دین کو یہ دونوں کتب بار بار پڑھنے چاہئے ۔
راقم :آپ نے کوئی کتب بھی لکھی ہیں ؟
شیخ لاشاری:ہاں کچھ لکھی ہیں ،نحو و صرف پر بھی اور کچھ مسائل پر لکھی ہیں ۔شیخ بدیع الدین کی لائبریری میں میری کتب مل جائیں گے تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔
میں اسلم بھائی سے کہا کہ لاشاری صاحب کی کوئی کتاب ہے تو مجھے دکھائیں ؟توانھوں صرف پر لاشاری صاح کی ایک کتاب دکھائی جس کے ٹائٹل پر لکھا ہوا تھا :
ابوالنحو والصرف محمد حیات لاشاری ۔
میں نے اس کتاب کی فوٹو کاپی کروائی اور ٹائٹل پر شیخ لاشاری کے دستخط کروائے ۔
لاشاری صاحب نے بتایا کہ میری ملاقات ابراہیم سیالکوٹی سے بھی ہوئی تھی تو انھوں نے میرا نام اپنی کتاب تاریخ اہل حدیث میں سید نذیر حسین محدث دہلوی کے شاگردوں میں کیا ہے اور کہا :کہ میں روئے زمین ان کا آخری شاگرد ہوں ،میرے علاوہ کوئی بھی ان کاشاگرد موجود نہیں ہے ۔
کچھ باتیں راشدی خاندان کے آثار کے متعلق، جو راقم نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں یا اپنے کانوں سے سنیں :

چونکہ راقم تقریبا تین دن شیخ بدیع اور شیخ محب اللہ شاہ راشدی کی لائبریریوں میں رہا کچھ باتیں جو میں نے دیکھیں یا سنیں درج ذیل ہیں۔
شیخ بدیع الدین کا مکتبہ جہاں دینی کتب کی دنیا آباد دیکھی اور وہ مکتبہ جہاں بیٹھ کر شیخ العرب وا لعجم نے محدثین کی جماعت کو تیار کیا :

آج سے دس سال پہلے جب راقم اس مکتبہ میں حاضر ہوا
تو مسجد الراشدیہ کے دائیں طرف شیخ بدیع کے گھر کے سامنے ایک بہت بڑا کمرا جس کے دو دروازے تھے ایک دروازہ مغرب کی طرف اور دوسرا جنوب کی طرف تھا راقم اس کمرے کے اندر داخل ہوا تو کمرے کے چاروں طرف چھت تک الماریاں کتابوں سے بھری دیکھیں اور کچھ جگہ چھوڑ کر تاکہ چلنا آسان ہو پھر الماریاں نصب کی ہوئی ہیں اور وہ بھی کافی اونچی وہ بھی کتابوں سے لیس ہیں شمالی دروازے کے سامنے دیوار پر ایک شعر لکھا ہو تھا 
الا یا مستعیر الکتب منی،راقم کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ شیخ العرب والعجم کی مسند اس شعر کے نیچے ہوا کرتی تھی ۔
اور سرور الہی بھائی مجھے چھوڑ کر جلدی کراچی روانہ ہوگئے اور مجھے بھی کراچی کی دعوت دی لیکن میں نے کہا کہ اب تو شیخین اخوین کریمین امامین کی لائبریریوں کو چھوڑ کر جانا مناسب نہیں سمجھتا زندگی رہی تو کراچی بھی آوں گا ۔ 
اور چائے وغیرہ پینے کے بعد اسلم بھائی لائبریرین سے سوالات کرنے شروع کئے ۔
اسلم صاحب مجھے لائبریری کا مختصر سا تعارف کروا دیں تاکہ کتب تک رسائی آسان ہو ؟
اسلم صاحب کھڑے ہو کر کہنے لگے :کمرے کے مغربی کونے کی طرف مجھے ساتھ لے کر گئے اور کہا کہ اس کونے میں تمام مخطوطات ہیں اور جنوبی کونے میں کتب حدیث و رجال ہیں ،مشرقی اور شمالی کونے میں کتب فقہ ہیں فقہ حنفی سے لے کر فقہ جعفری تک ۔اور جو الماریاں بڑی الماریوں کے آگے رکھی ہوئی ہیں ان کی دونوں طرف کتب ہیں کچھ میں اصول حدیث اور کچھ دیگر موضوعات پر مشتمل اس کی تفصیل راقم کو بھول گئی ہے ۔
راقم:جزاکم اللہ بھائی ۔اب مجھے چھوڑ دیں تاکہ میں سارا مکتبہ غور سے دیکھوں ۔
اسلم بھائی :ٹھیک ہے جی میں بھی ادھر ہوں جو کوئی مشکل پیش آئے ضرور بتانا ۔
میں نے کوشش کی کہ ہر ہر کتاب کو پکڑوں اور کھول کر دیکھوں مسلسل تین دن اسی کام میں مصروف رہا ،اور ہر ہر کتاب میں صفحات پر شیخ بدیع کے قلم سے حاشیے لکھے ہوئے ہیں 
راقم نے کچھ حواشی قلم بند کر لئے اور کچھ کی فوٹو کاپی کروالی اللہ کرے کوئی نوجوان اٹھے اور ان تمام حواشی کو کتابی شکل میں جمع کر دے تا کہ ان قیمتی حواشی سے پوری دنیا فائدہ اٹھائے ،اسی طرح مخطوطات دیکھنے سے بہت لطف ائمہ محدثین کے ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریروں سے کو دیکھا اور بڑی خوشی ہوئی ان محدثین کے خدمات پر دل سے دعائیں نکلیں کہ جس دور میں رواں قلم نہیں تھا وہ اللہ کی توفیق سے قلم دوات کی مدد سے وہ کچھ کر گئے کہ جو آگ کے تیز ترین قلم اور کمپوزنگ کے ماہرین جو ایک گھنٹے میں کئی صفحات لکھ جاتے ہیں نہیں کر سکے ۔
شیخ بدیع کے کاتبوں سے ملاقات

ایک رات شیخ بدیع کے گھر کی چھت پر بیٹھے ہوئے تھے تو کچھ مہمان آئے ہوئے تھے راقم نے ان کا تعارف کیا تو انھوں نے مجھے پوچھا کہ آپ ادھر کہاں سے اور کیوں ؟راقم نے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ میں راشدی خاندان سے محبت کرتا ہوں یہی محبت مجھے ادہر لے آئی ہے ۔
ان مہمانوں میں سے ایک مولانا عبدالرحمن میمن تھے اور دوسرے اجمل صاحب تھے ان دونوں ساتھیوں نے بتایا کہ ہمیں فخر حاصل ہے کہ ہم شیخ بدیع کے کاتب تھے ،وہ ہمیں املاء کرواتے تھے اور ہم لکھتے جاتے تھے ۔!
میں نے کہا کہ مجھے شیخ بدیع کے متعلق کچھ باتیں بتائیں ۔انھوں نے کہا کہ تم رموز راشدیہ پڑھ لینا اس میں شیخ کا انٹرویو ہے تمام تعارف ہو جائے گا ۔
راقم :جو تم نے سب سے حیران کن چیز شیخ بدیع میں دیکھی وہی بتا دیں ؟
شیخ بدیع کے کاتب :صرف ایک واقعہ بتاتے ہیں اس سے اندازہ لگانا آسان ہے 
راقم :ضرر بتائیں ؟
شیخ بدیع کے کاتب :ایک ہی وقت میں ہم چار کاتب شیخ کے پاس لکھتے ہیں اور بیک وقت وہ چار فنون پر چار کتب لکھوا رہے ہوتے تھے کسی کو ایک فن کے متعلق اور دوسرے کو دوسرے فن کے متعلق اور تیسرے کو تیسرے فن کے متلعق اور چوتھے کو چوتھے فن کے متعلق ۔اور مزے کی بات یہ کہ جب ایک کو لکھواتے تو دوسرے کو کہتے کہ آگے لکھو اور ماشاءاللہ فی البدیع چاروں کو ایک ہی وقت میں الگ الگ عنوان پر لکھوا رہے ہوتے تھے اور یہ بھی نہیں بھولتے تھے کہ پہلے میں نے کیا لکھوایا ہے ۔الحمدللہ
پیر آف جھنڈا میں شیخ محب اللہ شاہ راشدی کے مکتبہ میں :

جمعرات کا دن تھا راقم پیر آف جھنڈا شیخ محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ کے مکتبہ گیا ماشاء اللہ بہت بڑا مکتبہ پایا اور کافی دیر کتب کا دیدار کرتا رہا مکتبہ کے سامنے بہت بڑی مسجد ہے اس کے ساتھ راشدی خاندان کے محدثین مدفون ہیں ایک ساتھی نے بتایا کہ یہ شیخ بدیع کی قبر ہے اور یہ شیخ محب اللہ کی اور یہ شیخ احسان اللہ کی وغیرہ اس چھوٹے سے قبرستان کی زیارت کی جہاں محدثین مدفون ہیں اور خوب ان کے حق میں دعائیں مانگی پھر شام سے پہلے واپس شیخ بدیع کے مکتبہ میں نیو سعید آباد پہنچ گیا ۔
رات شیخ لاشاری رحمہ اللہ سے باتیں کرتا رہا اور صبح جمعہ سے سالانہ کانفرنس شروع ہونی تھی اشتہار میں شیخ لاشاری رحمہ اللہ کا درس بھی لکھا ہوا تھا ۔اور صبح خطبہ جمعہ شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے دینا تھا جمعہ ادہر ہی ادا کیا چونکہ کل ہفتہ کو جامعہ رحمانیہ میں چھٹیاں ختم ہونی تھی اور مدرسہ میں پڑھائی شروع ہونی تھی اور یہ سفر مدرسہ کی چھٹیوں میں کیا تھا اس لئے جمعہ کو ہی واپسی حیدر آباد سے ریل گاڑی پر بیٹھ کر صبح جامعہ رحمانیہ اپنی کلاس میں حاضر ہوا اور کلا س میں اسباق پڑھے والحمدللہ ۔
اس سفر سے حاصل ہونے والے اسباق:
راقم نے اس سفر سے درج ذیل اسباق حاصل کئے ۔
١:مدرسہ کی چھٹیوں کو ضایع نہیں کرنا چاہئے بلکہ چھٹیوں کو قیمتی بنانے کے لئے کسی شیخ کی طرف سفر کرنا چاہئے ۔
٢:اساتذہ کو اپنے شاگردوں کی رہنمائی کرتے رہنا چاہئے ۔
٣:بڑے شیخ سے ملاقات کرنے کا شوق ہونا چاہئے اس میں طالب علم تھوڑے وقت میں بے شمار فوائد سمیٹتا ہے 
میں آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اس سفر کا سبب بننے والے میرے استاد محترم میرے محسن اور مشفق استاد اسم با مسمی شیخ عبدالرشید راشد رحمہ اللہ جائزۃ الاحوذی شرح سنن الترمذی کے معاون اور کاتب اور جس کی طرف سفر کیا شیخ لاشاریرحمہ اللہ ،اور شیخ بدیع الدین ،شیخ محب اللہ شاہ راشدی رحمھما اللہ کو اللہ تعالی جنت الفردوس عطا فرمائے آمین 
۔
[H2]اگر کسی بھائی کو میری اس بحث سے کوئی فائدہ ملاہے وہ وہ میرے لئے اور میرے اساتذہ خصوصا شیخ عبدالرشید راشد رھمہ اللہ کے لئے خصوصی دعا کر دے کہ اللہ تعالی میرے استاد محترم کو معاف فرمائے اور مجھے تمام اساتذہ کے لئے صدقہ جاریہ بنائے ۔آمین [/
H2]
اور اللہ تعالی میری تمام مشکلات آسان فرمائے اور نیک پروگرموں میں میر ی مدد فرمائے ،۔آمین
کسی فرصت میں سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ کے محدثین کے ساتھ جو ملاقاتیں ہوئیں ان کا ذکر بھی کروں گا ان شا ء اللہ ۔