آپ کی معلومات

Saturday, 31 August 2013

حافظ زبیر علی زئی صاحب کی تحقیقات سے شیخ کفایت اللہ سنابلی کا رجوع

2 comments

شیخ کفایت اللہ حفظہ اللہ نے پہلے لکھا تھا:''الحمدللہ ہم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کا بہت احترام کرتے ہیں اور ان کی تحریروں سے بکثرت استفادہ کرتے ہیں اور ان کے رسالہ الحدیث کو ممتاز رسالوں میں شمار کرتے ہیں اور عموما احادیث کے سلسلے میں ہم حافظ موصوف ہی کے فیصلہ کو ترجیح دیتے ہیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس عبارت پر حاشیہ لکھتے ہیں :زبیر علی زئی صاحب پر ہمارا یہ اعتماد قطعا باقی نہیں ہے،ہماری اس بات کو منسوخ سمجھا جائے جس طرح محدثین بعض رواۃ کی توثیق کردیتے ہیں اور بعد میں اصل حقائق سے آگاہی کے بعداسے مجروح قرار دیتے ہیں کچھ اسی طرح کا معاملہ ہمارے ساتھ پیش آیا ہے ۔دراصل ہم نے حسن ظن کی بنیاد پر یہ باور کیا تھا کہ زبیر علی زئی صاحب محدثین وائمہ کے حوالے سے جو کچھ نقل کرتے ہیں ان سب میں پوری امانت ودیانت کا ثبوت دیتے ہوں گے اسی طرح تحقیق حدیث میں جن قواعد و اصول کو بنیاد بناتے ہیں وہ بھی محدثین سے ثابت ہوں گے ۔
لیکن جب ہمارا ان سے مناقشہ ہوااور ہم نے ضرورت محسوس کی کہ ان کی پیش کردہ باتوں کو اصل مراجع سے دیکھا جائے تو اس مرحلہ میں یہ اوجھل حقیقت منکشف ہوئی کہ
زبیرعلی زئی صاحب اپنے اندر بہت ساری کمیاں رکھتے ہیں مثلا
۱:خود ساختہ اصولوں کو بلا جھجھک محدثین کا اصول بتاتے ہیں ۔
۲:بہت سارے مقامات پر محدثین کی باتیں اور عربی عبارتیں صحیح طرح سے سمجھ نہیں پاتے۔
۳:اور کہیں محدثین کی غلط ترجمانی کرتے ہیں ۔
۴:یابعض محدثین و اہل علم کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن سے وہ بری ہوتے ہیں ۔
۵:اور کسی سے بحث کے دوران مغالطہ بازی کی حد کر دیتے ہیں۔
۶:اور فرق مخالف کے حوالے سے ایسی ایسی باتیں نقل کرتے ہیں یا اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جو اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوتیں ۔
ان تمام کوتاہیوں کے با وجود زبیر علی زئی صاحب کے اندرایک اہم خوبی یہ ہے کہ وہ جرح و تعدیل کے اقوال کی بھی چھان بین ضروری سمجھتے ہیں کہ آیا وہ ناقدین سے ثابت ہیں کہ نہیں یہ ایک اہم خوبی ہے اور محض اسی امتیاز نے راقم السطورکو ان کی تحریروں کی طرف راغب کیا لیکن افسوس کہ اس بابت بھی آنجناب کی تحقیقات پر اس لحاظ سے سوالیہ نشان لگ جاتا ہے کہ مبادا یہاں بھی موصوف نے وہی طرز عمل اختیار کیا ہوگا جس کی طرف سطور بالا میں اشارہ کیا گیا ہے ۔(زبیر علی زئی کے رد میں دوسری تحریر ص:۱وحاشیہ :۱)بحوالہ:https ://dl.dropboxusercontent.com/u/39094119/yazeed/zubair%20ali%20zai%20par%20rad/kiya%20yazeed%20sunnat%20ko%20badalne%2

0wale%202.pdf

Sunday, 25 August 2013

شیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کے شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کے رد پر مشتمل بلوگ

0 comments


علمی و منھجی اختلاف کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے اس پر اہل علم کو توجہ دینی چاہئے اسی خاطر شیخ کفایت اللہ حفظہ اللہ کے شیخ زبیر علی زئی صاحب کے رد میں مضامین پیش خدمت ہیں تاکہ قارئین پر حق واضح ہو سکے 

مقدمہ شرح صحیح بخاری لابن بشیر الحسینوی الاثری

0 comments



راقم اللہ تعالی کی توفیق خاص سے شرح مسلم سے فارغ ہو چکا ہے والحمدللہ 
اور اس سال سے دارالحدیث راجووال اوکاڑہ میں صحیح بخاری کی تدریس کر رہا ہے اور شرح پر کام بھی شروع کردیا ہے اللہ تعالی میر ی مدد فرمائے اور اس کو میرے لئے آسان فرمادے اور اس کی تکمیل کی توفیق بھی عطافرمائے آمیین ۔
دعا لینے کی غرض سے یہ شرح اور علمی فوائد انٹر نیٹ پر بھی شایع کرتا رہوں گا ان شاء اللہ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
۸ا اگست ۲۰۱۳بروز ہفتہ جامعہ دارالحدیث الجامعۃ الکمالیۃ راجووال اوکاڑہ کی پہلی میٹنگ میں راقم کو صحیح البخاری کی تدریس کی ذمہ داری سونپی گئی اس میٹنگ میں شیخ دکتور عبدالرحمن یوسف ،شیخ دکتور عبیدالرحمن محسن ،شیخ عنایت اللہ ،شیخ رفیق زاہد ،شیخ محمد فاروق ،شیخ آصف سلفی اور راقم الحروف(ابن بشیر الحسینوی )حفظھم اللہ موجود تھے ۔
اللہ تعالی مجھے اس کی تدریس پر کما حقہ محنت کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین ،بیس اگست بروز سوموار کو صحیح بخاری کی تدریس کی ابتدا کی ہے ان شاء اللہ 
دوران مطالعہ جو فوائد ملیں گے انھیں ترتیب دیتا رہوں گا تاکہ بعد میں صحیح کی شرح ممکن ہو سکے ان شاء اللہ ۔
راقم پہلی مرتبہ صحیح بخاری کی تدریس کررہا ہے اس سے پہلے جامعہ محمد بن اسمعیل البخاری گندھیاں اوتاڑ قصور میں عرصہ آٹھ سال تدریس کی اس میں تین دفعہ صحیح مسلم اور تین دفعہ موطا امام مالک پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی صحیح مسلم کی تدریس کے دورا ن صحیح مسلم کی شرح بھی مکمل لکھی جو اب مکتبہ قدوسیہ لاہور سے شایع ہو رہی ہے والحمدللہ علی ذلک ۔
صحیح بخاری کا نام:
اس کا مشہور نام جو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے وہ یہ ہے :الجامع الصحیح المسند من حدیث رسول اللہ ﷺ وسننہ وایامہ ۔(ھدی الساری:ص۶)یہی نام طاہر الجزائری (توجیہ النظر ص۲۲۰)وغیرہ نے نقل کیا ہے جو کہ درست نہیں ۔
بلکہ اس کے برعکس حافظ نووی نے اس کا نام اس طرح لکھا ہے اور دلائل کی روشنی میں یہی صحیح ہے :(الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ ﷺ وسننہ وایامہ (تھذیب الاسماء واللغات للنووی:ج۱ص۷۳)یہی نام ابن رشید السبتیی الاندلسی (افادۃ النصیح فی التعریف بسند الجامع الصحیح ص۱۶)اور علامہ عینی (عمدۃ القاری:ج۱ص۵)میں لیا ہے ۔دکتور نورالدین عتر نھے بھی اسی نام کو صحیح ثابت کیا ہے ۔(الامام الترمذی والموازنۃ بین جامعہ و بین الصحیحین لنور الدین عترص۴۱)اور یہی تحقیق ابوغدہ حنفی صاحب نے پیش کی ہے بلکہ انھوں نے تو قدیم دو قلمی نسخوں سے بھی یہی نام ثابت کیا ہے ۔دیکھئے((تحقیق اسمی الصحیحین واسم جامع الترمذ ی لابی غدہ)
تنبیہ:علامہ جمال الدین قاسمی نے بھی نام مین غلطی کی ہے مثلا :الجامع الصحیح المسند من حدیث رسول اللہ ﷺ وسننہ وایامہ ۔(حیاۃ البخاری ص۱۲)
صحیح بخاری کب لکھنی شروع کی اور کب مکمل ہوئی ؟
۲۳۲ ھ کو مکمل لکھ لی تھی اور ۲۱۶ھ کو لکھنی شروع کی تھی اس وقت آپ کی عمر ۲۲ سال تھی کیونکہ آپ ۱۹۴ ھ کو پیدا ہوئے تھے گویا آپ ابھی ۳۸ سال کے تھے کہ آپ نے صحیح بخاری مکمل لکھ لی تھی۔اور آپ ۶۵۲ ھ کو فوت ہوئے گویا آپ کتاب لکھنے کے ۲۴ سال بعد فوت ہوئے ۔
یہ تخمینہ ہے امام بخاری اور امام عقیلی کے ایک قول سے اخذ کیا گیا ہے ۔اور وہ قول یہ ہے :امام بخاری نے فرمایا کہ میں نے یہ کتاب سولہ سالوں میں لکھی اور امام عقیلی نے کہا کہ جب امام بخاری نے صحیح بخاری لکھ لی پھر امام احمد بن حنبل ،ابن معین،اور علی بن مدینی پر پیش کی انھوں نے اس کو بہت اچھا گردانا اور اس کے صحیح ہونے کی گواہی دی سوائے چار احادیث کے لیکن ان میں بھی امام بخاری کی تحقیق راجح ہے ۔(ہدی الساری ج ۲ ص۲۰۲)تنبیہ :یاد رہے یہ واقعہ صحیح ثابت نہیں ہے کیو نکہ اس کی سند میں من یقول مجھول ہیں لھذا یہ سارا تخمینہ درست نہ ہوا ۔یہ تحقیق نا سدید ابو غدہ حنفی صاحب تلمیذ کوثری جھمی نے کی ہے اور خود کہہ بھی دیا ہے کہ اس واقعے کی سند مجہول ہے ۔(تحقیق اسمی الصحیحین واسم جامع الترمذ ی لابی غدہ ص:۷۲۔۷۳)

Thursday, 25 July 2013

مرکز امام بخاری گندھیاں اوتاڑ قصور کا میٹرک 2013کا شاندار رزلٹ

0 comments
اللہ کے توفیق سے ہمارے جامعہ میں دینی علوم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی طرف بھی کافی محنت کروائ جارہی ہے اس سال بھی طلبائ نے علاقہ بھر میں اچھے نمبر حاصل کئے 
مبشر:864
عدیل:836
عبدالرحمان:778
امتیاز:690
وقاص652
امیر حمزہ :643
آصف سلفی:583
ابوبکر :578
عبدالرزاق:549
اعظم:565
اچھے رزلٹ پر ہم اللہ تعالی کے شکر گزار ہے والحمدللہ


دارالحدیث راجووال اوکاڑہ کا میٹرک 2013 میں بورڈ سے دوسری پوزیشن حاصل کی

0 comments

اس جامعہ کا رزلٹ ہمیشہ کی طرح اس بار انتہائی قابل تعریف رہا 
اب تو اایک طالب علم نے ساہیوال بورڈ سے دوسری پوزیشن حاصل کی والحمدللہ
حافظ عبداللہ سلیم ولد بارک اللہ 

909
نمبر لے کر بورڈ سے دوسری پوزیشن حاصل کی
باقی رزلٹ بھی جلد شیئر کردیا جائے گا

Monday, 15 July 2013

دارالحدیث الجامعۃ الکمالیۃ راجووال اوکاڑہ مھتمم پروفیسر ڈاکٹر عبیدالرحمن محسن حفظہ اللہ

0 comments
جون ۲۰۱۳ سےمجھے میرے استاد محترم فضیلۃ الشیخ حافظ محمد شریف حفظہ اللہ نے اس جامعہ میں تدریس و ریسرچ کے لئے بھیج دیا ہے اللہ تعالی میری اس ہجرت کو دین کی اشاعت کے لئے خیر وبرکت کا سبب بنائے ٓ۔آمین
اس جامعہ کا تعارف:
دارالحدیث الجمامعۃ الکمالیۃ کی ۲۰۱۳ کی رپورٹ

Wednesday, 12 June 2013

رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں آن لائن کلاس (دورہ علوم حدیث )میں شرکت فرمائیں

0 comments

آن لائن کلاسز کافی عرصے سے جاری ہیں والحمدللہ جن کی تفصیل اس لنک سے دیکھی جا سکتی ہے

رمضان میں راقم کو جامعہ سے چھٹی ہوتی ہے اس لئے بعض ساتھیوں کے توجہ دلانے سے رمضان میں آن لائن دورہ علوم حدیث کرایا جائے گا ان شاء اللہ


اس کلاس میں


اصول حدیث 
کتب حدیث کا منھج 
کتب رجال کا منھج 
تحقیق و تخریج 
اور فرق باطلہ کے احادیث سے باطل استدلال اور ان کی حقیقت 


جیسے اہم موضوعات زیر بحث لائیں گے ،
اپنے قیتمی وقت سے کچھ وقت علوم حدیث کلاس کو بھی دیں تاکہ ہمیں علوم حدیث سے کچھ تعارف ہو ۔
اس لئے اس کلا س مین شرکت فرمائیں 
ٹائم کلاس :پاکستانی ٹائم کے مطابق صبح دس بجے سے لے کر بارہ بجے تک 
یہ کلاس بیک وقت 
سکائیپ:Ibrahim.alhusainwy
پالٹالک:
Almahad alhusainwyia

دونوں پر نشر کی جائے گی ان شائ اللہ