میرے خیال سے کوئی بھی شخص مکمل توجہ سے ہماری پوری بات پڑھے گا تو وہ خود بخود سمجھ جائے گا کہ یہاں سبقت قلم کے نتیجے میں ’’ابوالعالیہ ‘‘ کی جگہ ’’ابومسلم‘‘ کا نام درج ہوگیا ۔یعنی صحیح عبارت یوں ہونی چاہئے :’’ اور ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ابو العالیہ کے سماع کا کوئی ثبوت قطعاً نہیں ‘‘سبقت قلم کی یہ غلطی ایسے مقام پر نہیں ہے کہ قاری بغور پڑھنے کے باوجود بھی خود بخود نہ سمجھ سکے ، اور میری وضاحت کی ضرورت پڑے۔کیونکہ یہاں سیاق وسباق میں کئی ایسے دلائل موجود ہیں جو اس سبقت قلمی پر دلالت کرتے ہیں ملاحظہ ہوں:یوں تو سیاق وسباق کی بہت ساری دلیلیں ہیں لیکن ہم پہلے ان دلائل کو ذکر کرتے ہیں جو میری تحریر سے لئے گے اقتباس سے بالکل آگے پیچھے جڑے ہیں ، چنانچہ دیکھیں میرے مقتبس الفاظ اپنے آگے پیچھے کی عبارت کے ساتھ :شیخ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح کردہ سند عبدالوھاب والی نہیں ہے ، یہ سند صریحا منقطع ہے کیونکہ اس میں ابومسلم اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے مابین کسی واسطے کاذکر نہیں ،اور ابوذر رضی اللہ عنہ سے ابومسلم کے سماع کا کوئی ثبوت قطعا نہیں ، ناقدین محدثین نے واضح طور پر یہاں انقطاع کی صراحت کی ہے ۔سیاق کی پہلی دلیل:میرے جن ادھورے الفاظ کا اقتباس لیا گیا ہے اس سے متصل پہلے لکھا ہوا ہے:’’شیخ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح کردہ سند عبدالوھاب والی نہیں ہے‘‘یعنی عدم سماع کی بات کا تعلق اسی سند سے ہے جسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے اور اس سند میں ابومسلم ہے ہی نہیں بلکہ اس جگہ ابوالعالیہ ہیں جو ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کررہے ہیں ۔غورکریں کہ جب میں نے یہ کہہ دیا کہ ’’ یہ سند عبدالوھاب والی نہیں ہے‘‘ تو بھلا یہ سند ابومسلم والی میں کیسے مان سکتاہوں ؟سیاق کی دوسری دلیل:میرے جن ادھورے الفاظ کا اقتباس لیا گیا ہے اس سے متصل پہلے لکھا ہوا ہے:’’یہ سند صریحا منقطع ہے ‘‘اب ظاہر ہے کہ جس سند کو صراحۃ منقطع بتلایا جارہا ہے ، دعوائے عدم سماع کا تعلق بھی ان ہی رواۃ سے متعلق ہوگا جو اس سند میں موجود ہوں گے اور ابوذرضی اللہ عنہ سے روایت کرنے کی جگہ پر ابومسلم نہیں بلکہ ابوالعالیہ ہیں ، لہٰذا عدم سماع کا دعوی ابوالعالیہ و ابوذر رضی اللہ عنہ کے مابین ہی ہے ۔سیاق کی تیسری دلیل:میرے جن ادھورے الفاظ کا اقتباس لیا گیا ہے اس کے معا بعد لکھا ہوا ہے:’’کیونکہ اس میں ابومسلم اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے مابین کسی واسطے کاذکر نہیں‘‘صاف کہا جارہا ہے کہ ’’اس میں ‘‘ یعنی علامہ البانی رحمہ اللہ کی پیش کردہ سند میں ، اور اس سند میں ابو ذر رضی اللہ عنہ سے قبل ابومسلم نہیں بلکہ ابوالعالیہ ہیں ، یہ سیاق اس بات کی دلیل ہے کہ عدم سماع کا دعوی ابوذررضی اللہ عنہ اور ابوالعالیہ ہی کے مابین ہے۔سیاق کی چوتھی دلیل:میرے جن ادھورے الفاظ کا اقتباس لیا گیا ہے اس کے معا بعد لکھا ہوا ہے:’’ناقدین محدثین نے واضح طور پر یہاں انقطاع کی صراحت کی ہے ‘‘صاف کہا جارہا ہے کہ ’’یہاں انقطاع کی صراحت کی ہے ‘‘ یعنی اس سند میں جسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے پیش کیا ہے اور یہاں پر محدثین کی صراحت ابوذر رضی اللہ عنہ اور ابوالعالیہ ہی کے مابین ہے نہ کہ ابوذر رضی اللہ عنہ اور ابومسلم کے مابین ۔ویسے مجھے حیرت ہے کہ حافظ موصوف نے میرے ان الفاظ ’’ناقدین محدثین نے واضح طور پر یہاں انقطاع کی صراحت کی ہے ‘‘ کو کیوں نظر انداز کردیا ؟موصوف کو تو ان الفاظ کا بھی اقتباس لے کر پوچھنا چاہئے کہ کون کون سے محدثین ہیں جنہوں نے یہاں انقطاع کی صراحت کی ہے۔سیاق کی یہ چار دلیلیں تو لیے گئے اقتباس سے متصل آگے پیچھے ہی ہیں ، علاوہ ازیں:سیاق کی پانچویں دلیل:متعلقہ مقام پر سب سے پہلے علامہ البانی رحمہ اللہ کی صحیح قرار دی گئی ایک سند کو پیش کیا گیا ہے اس کے بعد اسی کا جواب دیا جارہا ہے اور اس پیش کردہ سند میں ابومسلم کا نام ونشان ہی نہیں ہے بلکہ یہاں ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے ابوالعالیہ ہیں ۔لہٰذا جواب دینے والا ایسی سند میں جب انقطاع کی بات کرے گا تو انہیں رواۃ کے مابین انقطاع بتلائے گا جو اس سند میں موجود ہوں گے اورابو مسلم تو اس سند میں موجود ہی نہیں۔سیاق کی چھٹی دلیل:اگرہم متعلقہ مقام پر ابومسلم ہٹا کر ابوالعالیہ رکھ دیں ، اور اس کے بعد اسی تحریر کو کسی عالم کے سامنے پیش کریں تو وہ ہرگز یہ اعتراض نہیں کرگے کہ یہاں ابوالعالیہ کا ذکربے محل ہے اس کے برعکس اگر ہم یہ تحریر کسی عالم کو نظر ثانی کرنے کے لئے دیں (اعتراض کرنے کے لئے نہیں ) تو وہ ضرور بتلائے گا کہ کتابت کی یہ غلطی صحیح کرلو ۔اگر’’ابوالعالیہ‘‘ کی جگہ ’’ابومسلم ‘‘ لکھا جانا سبقت قلم والی غلطی نہ ہوتی تو تصحیح کرنے کے بعد یعنی ’’ابومسلم‘‘ کی جگہ ’’ابوالعالیہ‘‘ رکھنے کے بعدیہ جملہ سیاق وسباق سے کٹ جاتا لیکن تصحیح کے بعد ایسا کوئی بات ظاہر نہ ہونا بلکہ عین سیاق وسباق کے موافق معلوم ہونا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ یہاں سبقت قلم کی غلطی ہے۔سیاق کی ساتویں اور زبردست دلیل:سب سے اہم بات یہ ہے کہ حافظ موصوف پر رد کرتے ہوئے ہم نے جو پہلی تحریر پیش کی تھی اس میں زیربحث روایت کی سند میں جو کمزوری بتلائی تھی وہاں ہم نے ابومسلم اورابوذر رضی اللہ عنہ کے مابین عدم سماع والی بات قطعا نہیں کی ہے اگر ہمارا یہ دعوی ہوتا کہ ابومسلم کا سماع ابوذر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں تو ہم اپنی پہلی تحریر ہی میں اسے پیش کرتے ۔ہمارا یہ طرزعمل بھی شاہد ہے کہ دکھایا گیا موقف ہمارا موقف قطعا نہیں بلکہ علامہ البانی رحمہ اللہ کی پیش کردہ سند پر بات کرتے ہوئے سبقت قلم سے ابوالعالیہ کی جگہ ابومسلم تحریر ہوگیا۔ان شاء اللہ جو کوئی بھی انصاف کی نظر سے اور پوری توجہ سے اورسیاق وسباق کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری تحریر پڑے گا وہ خود بخود سمجھ جائے گا کہ یہاں سبقت قلم کی غلطی ہے، اور مضمون نگار یہ کہنا چاہتاہے۔اور سبقت قلم کی یہ غلطی مجھ سے کوئی پہلی بار نہیں ہوئی بلکہ اسے قبل بھی اس طرح کی چوک ہوچکی ہے چنانچہ گذشتہ رمضان میں ہم نے اپنے رسالہ ’’اہل السنہ ‘‘ میں لکھا :’’یہ رویات منقطع ہے کیونکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا دور نہیں پایاہے‘‘[دیکھئے مجلہ اہل السنہ،خصوصی شمارہ، رمضان نمبر 1433 ھ : ص 14 ]۔حالانکہ متعلقہ سند میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ اس جگہ امام اعمش رحمہ اللہ ہیں اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا دور نہیں پایا۔اب سیاق وسباق کو پیش نظر رکھنے والے ازخود سمجھ جائیں گے کہ سبقت قلم کی غلطی ہے ، لیکن کچھ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو اس بے چارے کو ، یہ دو ہم عصر صحابہ کی ملاقات کا انکار کررہا ہے۔واضح رہے کہ ہم نے مجلہ اہل السنہ کے اگلے شمارہ میں اعلان کردیا تھا کہ رمضان کے خصوصی شمارہ میں یہ غلطی ہے ۔ایک اشکال:ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ہم نے جب شیخ البانی رحمہ اللہ کی پیش کردہ ایسی سند جس میں ’’ابومسلم‘‘ نہیں ہے اس پر بات کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ اور ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ابو مسلم کے سماع کا کوئی ثبوت قطعاً نہیں ‘‘توپھرحافظ موصوف نے ہماری اس بنیادی تحریر پر تنقید کیوں نہیں کی کہ جس سند پر بحث کرتے ہوئے ابوذر رضی اللہ عنہ سے ابومسلم کے عدم سماع کا دعوی کیا گیا اس میں تو ابومسلم موجود ہی نہیں ؟؟اصل تنقیدتو اسی پر ہونی چاہئے کیونکہ یہ اصل بنیاد ہے ۔اسی طرح یہ بھی سوال اٹھانا چاہئے کہ اگر مضمون نگار کا یہ دعوی ہے کہ ’’ اور ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ابو مسلم کے سماع کا کوئی ثبوت قطعاً نہیں ‘‘ تو مضمون نگار نے جہان ابن عساکر کی ابومسلم والی سند پر بحث کی ہے وہاں اس علت کو بنیاد بناکر ابن عساکر کی سند پر جرح کیوں نہیں کی ؟؟کاش حافظ موصف ہمارے ادھورے الفاظ کو کم ازکم آگے پیچھے کے الفاظ کے ساتھ ہی نقل کردیتے تو گرچہ حافظ موصوف کچھ بھی سمجھیں لیکن دنیا میں اور بھی اہل علم ہیں اور ہمیں سب سے یہ امید نہیں کہ وہ ہماری مراد کے خلاف ہماری سبقت قلم کی غلطی کو بنیاد بناکر تنقید کریں گے اور ایسا جواب دیں گے جو سرے سے ہمیں مطلوب ہی نہیں ۔
بلاگ کا کھوجی
موضوعات
- jamia ima ahmad bin hanbal ksr (1)
- آن لائن کلاسز (13)
- ابن بشیر الحسینوی (1)
- ابن بشیر الحسینوی کے مضامین (9)
- الاصلاح سکول سسٹم حسین خانوالا ہٹھاڑ قصور (2)
- الموسسۃ الاثریۃ الخیریۃ قصور پاکستان (2)
- الموسسۃ الاثریۃالخیریۃ قصور کی مطبوعات (2)
- انٹرنیشنل اسلامک ریسرچ سنٹر (2)
- اے میری قوم کے غیور طلبائ (1)
- تحقیقات اصولیۃ (1)
- تحقیقات حدیثیۃ و تنقیدات (4)
- تحقیقات منھجیۃ (31)
- تراث محدثی الراشدیین (4)
- تراجم العلماء المعاصرین (7)
- تراجم محدثی اہل الحدیث (2)
- تعاون (1)
- تعاونوا علی البر والتقوی (2)
- جامعہ امام احمدابن حنبل قصؤر پاکستان (3)
- خبریں (1)
- خیر خواہی اخبار (1)
- خیر خواہی انسٹیٹیوٹ (1)
- دارالحدیث الجامعۃ الکمالیہ اوکاڑہ کے طلبائ کے مضامین (1)
- دارالحدیث الجامعۃ الکمالیہ اوکاڑہ مہتمم پروفیسر ڈاکٹر عبیدا لرحمن محسن حفظہ اللہ (2)
- سلفی حکمائ سے رابطہ کریں (1)
- سلفی ویب سائٹس (3)
- شرح صحیح بخاری لابن بشیر الحسینوی الاثری (3)
- شیخ الحدیث محمد یوسف محدث راجووالوی رحمہ اللہ (1)
- عقیدہ توحید سیمینار (1)
- علمی سفر نامے (7)
- کتب صوتیۃ (1)
- مدرسہ تفہیم الاسلام قصور (1)
- مرکز التحقیقات الاثریۃ (2)
- مرکز امام بخاری گندھیاں اوتاڑ قصور مھتمم قاری ادریس ثاقب حفظہ اللہ (1)
- یزید بن سیدنا معاویہ رحمہ اللہ (1)
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
Powered by Blogger.
آپ کی معلومات
Saturday, 6 April 2013
مقالات راشدیہ از شیخ خبیب احمد حفظہ اللہ ۔ایک فنی معرکۃ الآراء کتاب جس کا ہر طالب حدیث کو مطالعہ کرنا چاہئے
انتظامیہ
00:32
0
comments
00:32
0
comments
ایک قیمتی اصولی کتاب جو ہر حدیث کے طالب علم کو پڑھنی چاہئے اور یہ تمام کتاب اصول حدیث کی اہک بحوث پر مشتمل ہے ۔
علم دین اللہ تبارک وتعالیٰ کی دَین ہے، وہ جسے چاہتا ہے علم کے زیو ر سے آراستہ فرمادیتا ہے ، سمجھنے اور اس میں بصیرت حاصل کرنے کی توفیق بخشتا ہے۔
علم کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا معلوم کرکے اسے معمول بنانا ہے اور اللہ کے بندوں کو اس سے آگاہ کرنا ہے۔ اس سے ناموری، کسی کو نیچا دکھانا، ہر دل عزیز بننا اور اپنے علم وفضل کی برتری کو ثابت کرنا سراسر خسارے کا سودا ہے۔
علمی اورفنی مسائل میں علمائے کرام کی مختلف آرا ایک فطری عمل ہے۔ ان کے مابین باہمی مناقشات میں مقصد حقیقت کی تلاش اور راہ صواب کو پانا ہے۔ ایک دوسرے کو کمتر یا نیچا دکھانا قطعاً مراد نہیں ہوتا۔ حدیث کی تصحیح وتضعیف ہو یا کوئی فقہی یا اصولی مسئلہ ہو ان میں اختلاف نیا نہیں۔ زمانہ قدیم سے ہے۔ ہر دور میں علمائے کرام نے بساط بھر انہیں منقح کرنے اور اصل حقیقت کو اجاگر کرنے کی اپنی سی کوششیں کیں ہیں۔ اسی نوعیت کی ایک کوشش مولانا محمد خبیب احمد کی طرف سے’ مقالات اثریہ‘ کے نام سے آپ سامنے ہے۔ جو تین ابواب پر مشتمل ہے۔
باب اول میں مصطلح الحدیث سے متعلقہ سوالات ہیں۔ دوسرے باب میں چھ احادیث پر بحیثیت صحت وضعف بحث ہے اور تیسرے باب میں انہوں نے تین متفرق عناوین پر خامہ فرسائی فرمائی ہے۔
یہ مقالات خالصی علمی اور فنی مباحث پر مشتمل ہیں، جن سے طلباء علم ہی نہیں ، علمائے کرام بھی مستفید ہونگے اور بہت سی نئی جہتیں ان کے سامنے آئیں گی اور ان شاءاللہ بہت سی بند گرہیں کھلیں گی۔ مولانا خبیب احمد میدان تحقیق کے شناور ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنی مرضیات سے نوازیں اور دین حنیف کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائیں۔آمین
Friday, 5 April 2013
حسن لغیرہ کے متعلق اشکالات اور ان کے جوابات
انتظامیہ
18:20
0
comments
18:20
0
comments
حديث حسن لغيرہ کي حجيت کےمتعلق اشکالا ت اور ان کے جوابات -1
ازقلم: ابن بشير الحسينوي
محترم حافظ خبيب احمد الاثري نے لکھتے ہيں ’’حسن لغيرہ کے بارے ميں بعض لوگ انتہائي غير محتاط رويہ اپناتے ہيں، ان کے نزديک ضعيف حديث+ ضعيف حديث کي مطلق طور پر کوئي حيثيت نہيں، خواہ اس حديث کے ضعف کا احتمال بھي رفع ہوجائے۔ بزعم خويش حديث کے بارے ميں ان کي معلومات امام ترمذي، حافظ بيہقي، حافظ عراقي، حافظ ابن حجرؒ وغيرہ سے زيادہ ہيں۔ حالانکہ يہ بداہتاً معلوم ہے کہ جس طرح رواۃ کي ثقاہت کے مختلف طبقات ہيں اسي طرح ان کے ضعف کے بھي مختلف درجات ہيں۔ کسي راوي کو نسيان کا مرض لاحق ہے تو کسي پر دروغ بافي کا الزام ہے، بعض کے بارے ميں محدثين کا فيصلہ ہے: ’’يُعْتَبرْ بِھِمْ، يُکْتَبُ حَدِيْثُھُمْ‘‘ جبکہ بعض کے بارے ميں ’’لَا يُعْتَبرْ بِھِمْ، لَا يُکْتَبُ حَدِيْثُھُمْ‘‘ ہے۔
’’حسن لغيرہ کا مطلق طور پر انکار کرنے والے جس انداز سے متاخرين محدثين کي کاوشوں کو رائيگاں قرار دينے کي سعي نامشکور کرتے ہيں اسي طرح متقدمين جہابذۂ فن کے راويان کي طبقہ بندي کي بھي ناقدري کرتے ہيں اور بايں ہمہ وہ فرامين نبويہ کي خدمت ميں مصروف ہيں۔ إِنا ﷲ وإِنا إليہ راجعون۔‘‘
(مقالات اثريہ از حافظ خبيب احمد الاثري حفظہ اللہ)
پہلااشکال:
’’بعض لوگ ضعيف + ضعيف کے اصول اور جمع تفريق کے ذريعے سے بعض روايات کو حسن لغيرہ قرار ديتے ہيں۔‘‘
جواب:
حسن لغيرہ کو ماننے والے جمہور علما ہيں نہ کہ بعض لوگ، چنانچہ ذيل ميں ہم بعض علما و محدثين کي طرف اشارہ کرتے ہيں ۔
1۔ امام ترمذيؒ:
’’امام ترمذي کے علاوہ عام محدثين سے ايسي’’حسن لغيرہ ‘‘روايت کا حجت ہونا ثابت نہيں۔‘‘ (علمي مقالات: 1/ 300)
معلوم ہوا کہ امام ترمذي حسن لغيرہ کو حجت سمجھتے ہيں ۔والحمدللہ
2۔ امام بيہقي۔ (معرفہ السنن والآثار: 1/ 348، نصب الرايۃ: 1/ 93)
3۔ نووي (اربعين نووي حديث نمبر: 32)
4۔ ابن الصلاح (مقدمۃ علوم الحديث صفحہ: 37)
5۔ امام ابن قطان (النکت عليٰ ابن الصلاح لابن حجر: صفحہ 126، طبع دار الکتب العلميہ بيروت)
6۔ ابن رجب حنبلي (جامع العلوم والحکم صفحہ: 302)
7۔ ابن تيميہؒ (مجموع الفتاويٰ: 1/ 251)
8۔ ابن قيم (جلاء الافہام صفحہ: 199)
9۔ حافظ ابن حجر عسقلاني (فتح الباري: 3/ 188)
10۔ ابن کثير ( اختصار علو م الحديث صفحہ: 49، 50)
11۔ حافظ سخاوي (فتح المغيث)
12۔ سيوطي (تدريب الراوي: 1/ 160)
13۔ علامہ مناوي ( شرح الجامع الصغير: 982، 137)
14۔ زرقاني (شرح الزرقاني: 1/ 68)
15۔ شمس الحق عظيم آبادي (عون المعبود: 9/ 291)
16۔ عبدالرحمن مبارکپوري (مقدمۃ تحفۃ الأحوذي: 152)
17۔ عبيداللہ مبارکپوري۔ (مرعاۃ: 2 صفحہ 511)
18۔ طاہر الجزائري(توجيہ النظر: 506)
19۔ امام ناصر الدين الباني۔
20۔ جمال الدين قاسمي( قواعد التحديث صفحہ: 66)
21۔ دکتور حمزہ مليبار ي ( الموازنہ صفحہ: 49)
22۔ محدث کبير استاذ محترم ارشاد الحق اثري۔
23۔ غازي عزيز مبارکپوري (ضعيف احاديث کي شرعي حيثيت صفحہ: 192)
24۔ امام العصر علامہ ابو اسحاق الحويني(کشف المخبوء صفحہ: 23)
25۔ الدکتور خالد بن منصور الدريس( آراء المحدثين في الحسن لذاتہ ولغيرہ)
26۔ محدث حجاز -عبدالمحسن العباد ( شرح سنن ابي داود (15/133، 14/ 49، 3/ 345)
علاوہ ازيں امام سفيان بن عيينہ، امام شافعي، يحييٰ بن سعيد قطان، محمد بن يحييٰ ذہلي، امام بخاري، امام ترمذي، امام دارقطني، ابن ترکماني، حافظ علائي، حافظ ذہبي، حافظ عراقي سے بھي حسن لغيرہ کا حجت ہونا ثابت کيا گيا ہے ۔ان اقوال کي تفصيل کا طالب شيخ ابن ابي العينين کي کتاب ’’القول الحسن‘‘ کا مطالعہ کرے۔
جو علماء و محدثين حسن لغيرہ کو قابل عمل و احتجاج سمجھتے ہيں ان کے ناموں کا ذکر کرنے کا مقصود صرف يہ تھا ’’بعض لوگ ضعيف +ضعيف کے اصول اور جمع تفريق کے ذريعے سے بعض روايات کو حسن لغيرہ قرار ديتے ہيں۔‘‘ درست نہيں ہے
دوسرااشکال:
ليکن حافظ ابن حزم اس اصول کے سخت خلاف تھے بلکہ زرکشي نے ابن حزم سے نقل کيا ہے: ’’ولو بلغت طرق الضعيف ألفاً لا يقوي…‘‘ ’’اور اگر ضعيف حديث کي ہزار سنديں بھي ہوں تو اس سے روايت قوي نہيں ہوتي…۔‘‘ اگرچہ زرکشي نے اسے شاذ اور مردود کہا ہے ليکن انصاف يہ ہے کہ يہي قول راجح اور صحيح ہے۔‘‘
يہ قول محمد احمد جلمد نے بھي اپني کتاب الحديث الحسن بين الحد والحجيۃ ميں بطور دليل پيش کيا ہے !
جواب:
1۔يہ قول بے سند ہے
2۔ امام زرکشي نے اس قول کو شاذ ومردود کہا ہے
’’اگرچہ امام زرکشي نے اسے شاذاور مردود کہا ہے ليکن انصاف يہ ہے کہ يہ قول راجح اور صحيح ہے۔‘‘
اور امام ابن حزم کے قول کي ترديد کے ليے امام زرکشي کي عبارت ہي کافي ہے۔
تيسرا اشکال:
حسن لغيرہ کے مسئلے پر عمرو بن عبدالمنعم بن سليم کي کتاب ’’الحسن لمجموع الطرق في ميزان الاحتجاج بين المتقدمين والمتأخرين‘‘ بہت مفيد ہے۔
جواب:
قارئين سے گزارش ہے کہ اس مسئلے پر راہِ انصاف کو پانے کے ليے مندرجہ ذيل کتب بھي ملاحظہ فرمائيں جن ميں مذکورہ بالا کتاب اوراس مسئلے پر شبہات کا جائزہ ليا گيا ہے:
حديث حسن لغيرہ کي حجيت کےمتعلق اشکالا ت اور ان کے جوابات -2
1۔ القول الحسن في کشف شبھات حول الاحتجاج بالحديث الحسن مع تصويب الأسنۃ لصد عدوان المعترض علي الأئمۃ للشيخ ابن أبي العينين۔
2۔ الرد علي کتاب الحسن بمجموع الطرق في ميزان الاحتجاج بين المتقدمين والمتأخرين للشيخ أبي المنذر المنياوي۔
3۔ الحديث الحسن لذاتہ ولغيرہ للدکتور خالد بن منصور الدريس۔
4۔ مناھج المحدثين في تقويۃ الأحاديث الحسنۃ والضعيفۃ للدکتور المرتضيٰ زين أحمد۔
5۔ حسن لغيرہ للحافظ خبيب أحمد الاثري ۔
کيا ابن قطان کے نزديک حسن لغيرہ حجت نہيں؟
چوتھا اشکال:
حافظ ابن القطان الفاسي نے حسن لغيرہ کے بارے ميں صراحت کي ہے کہ: ’لايحتج بہ کلہ بل يعمل بہ في فضائل الأعمال…‘‘ ’’اس ساري کے ساتھ حجت نہيں پکڑي جاتي بلکہ فضائل اعمال ميں اس پر عمل کيا جاتا ہے…۔ (النکت علي کتاب ابن الصلاح: 1/ 402)
’’حافظ ابن حجر نے اس قول کو’’ حسن قوي‘‘ يعني اچھا مضبوط قرار ديا ہے۔‘‘
جواب:
1۔ پہلے امام ابن قطان کا مکمل قول ملاحظہ ہو:
’’لايحتج بہ کلہ بل يعمل بہ في فضائل الأعمال ويتوقف عن العمل بہ في الأحکام إلا إذا کثرت طرقہ أوعضدہ اتصال عمل أو موافقۃ شاہد صحيح أو ظاہر القرآن۔‘‘ (النکت لابن حجر: 402)
’’اس ساري کے ساتھ حجت نہيں پکڑي جاسکتي بلکہ اس کے ساتھ عمل کيا جاسکتا ہے اوراحکام ميں اس کے ساتھ عمل ميں توقف کيا جاتا ہے مگر جب اس کے طرق زيادہ ہوں يا اس کو مضبوط کرے کوئي متصل عمل، صحيح شاہد يا قرآن کے ظاہر کا اس کے ساتھ موافقت کرنا۔‘‘
امام ابن قطان تو کہہ رہے ہيں کہ اگر کثرت طرق ہوں تو عمل کيا جائے گا
انصاف شرط ہے کوئي بھي عالم دين اس مکمل قول کو پڑھے تو فوراً سمجھ جائے گا کہ امام ابن قطان تو حسن لغيرہ کا حجت ہونا ثابت کررہے ہيں اور ابن حجر نے بھي جواس قول کو ’’اچھا اور قوي قرار ديا ہے‘‘ تو انھوں نے بھي حسن لغيرہ کا حجت ہونا مراد ليا ہے۔
2۔ کئي علماء نے ابن قطان کي عبارت کو حسن لغيرہ کي حجيت ميں ذکر کيا ہے۔ مثلاً امام سخاوي (فتح المغيث، ص:49) طاہرالجزائري (توجيہ النظرصفحہ: 506) جمال الدين قاسمي (قواعد التحديث صفحہ: 66) دکتور حمزہ مليباري(الموازنہ، صفحہ: 49) علامہ ابواسحاق الحويني (کشف المخبوئ، صفحہ: 23) غازي عزيز مبارکپوري (ضعيف احاديث کي شرعي حيثيت صفحہ: 193)
پانچواں اشکال
حافظ ابن حجرؒ کے نزديک حسن لغيرہ حجت نہيں۔
جواب
حافظ ابن حجرؒ کي کتب کا مطالعہ کرنے والاطالب علم بھي اس بات کي شہادت دے گا کہ حافظ ابن حجرؒ حسن لغيرہ کو حجت سمجھتے ہيں۔
حافظ ابن حجرؒ ايک مقام پر لکھتے ہيں کہ ’’جب ’’سيئ الحفظ‘‘ کي کسي ايسے قابل اعتبار راوي سے تائيد ہو رہي ہو کہ وہ اس راوي سے بڑھ کر ہو يا کم از کم اس جيسا ہو اس سے کم تر نہ ہو تو ان کي حديث حسن ہو جائے گي مگر حسن لذاتہ نہيں ہو گي بلکہ اس کا حسن بننا متابع اور متابع کے مجموعے سے ہو گا۔‘‘ (النزھۃ، ص: 48، النکت، ص: 139)
کيا حافظ ابن کثيرؒ کے نزديک حسن لغيرہ حجت نہيں؟
چھٹا اشکال:
حافظ ابن کثير نے فرمايا:
’’مناظرے ميں يہ کافي ہے کہ مخالف کي بيان کردہ سند کا ضعيف ہونا ثابت کرديا جائے، وہ لاجواب ہوجائے گا کيونکہ اصل يہ ہے کہ دوسري تمام روايات معدوم ہيں۔ الا کہ دوسري سند سے ثابت ہو جائيں۔‘‘ (اختصار علوم الحديث: 274,275/1، نوع: 22،)
جواب:
1۔ حافظ ابن کثيرؒ کے اس قول کا حسن لغيرہ کي حجيت اور عدمِ حجيت سے کوئي تعلق نہيں جيسا کہ ہر شخص بآساني اصل کتاب کي طرف مراجعت کرنے کے بعد معلوم کر سکتا ہے۔
2۔ حافظ ابن کثيرؒ اختصار علوم الحديث (صفحہ: 49، 50) ميں نقل کرتے ہيں:
’’ومنہ ضعفٌ يزول بالمتابعۃ، کما إذا کان راويہ سيء الحفظ، أو روي الحديث مرسلاً، فإن المتابعۃ تنفع حينئذٍ، و يرفع الحديث في حيز الضعف إلٰي أوج الحسني أو الصحۃ۔ واﷲ أعلم‘‘
’’بعض ضعف متابعت سے زائل ہوجاتا ہے جيسا کہ راوي سييء الحفظ(برے حافظے والا) ہو يا حديث مرسل ہو تو اس وقت متابعت فائدہ ديتي ہے اور حديث ضعف کي گہرائيوں سے بلند ہوکر حسن يا صحيح کے درجے کو پہنچ جاتي ہے۔‘‘ (اختصار علوم الحديث اردو: 29)
معلوم ہوا کہ ابن کثير تو ابن الصلاح کے اس قول کو حسن لغيرہ کي حجيت ميں نقل کررہے ہيں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابن کثير کا اپنا موقف بھي يہي ہے کہ حسن لغيرہ حجت ہے۔
3۔ اورتفسير ابن کثير(1؍170،2؍196) پڑھيں تو وہاں بھي ابن کثير نے حسن لغيرہ کو حجت تسليم کيا ہے۔
ساتواں اشکال :
بسا اوقات کسي ضعيف حديث کي متعد د سنديں ہوتي ہيں يا اس کے ضعيف شواہد موجود ہوتے ہے، مگر اس کے باوجود محدثين اسے حسن لغيرہ کے درجے ميں نہيں لاتے۔
جواب:
حسن لغيرہ کي عدمِ حجيت کے بارے ميں سب سے بڑي دليل يہي ہے اور اسي سے وہ لوگوں کو مغالطہ ديتے ہيں۔
اس کا جواب ہم محتر م حافظ خبيب احمد الاثري کي قيمتي کتاب ’’مقالات اثريہ ‘‘ سے نقل کرتے ہيں۔
کثرتِ طرق کے باوجود حديث کو مقبول نہ ماننے کي وجوہات کا بيان۔
عدمِ تقويت کے اسباب:
ايسي حديث کے حسن لغيرہ نہ ہونے ميں پہلا سبب يہ ہے کہ ناقد سمجھتا ہے کہ اس حديث کو بيان کرنے ميں شاہد حديث کے کسي راوي نے غلطي کي ہے، لہٰذا غلط متابع يا غلط شاہد ضعف کے احتمال کو رفع نہيں کر سکتے۔ اسے يوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ايک حديث کي دو سنديں ہيں، اس کي ايک سند کے راوي کے بارے ميں راجح يہ ہے کہ اس نے سند يا متن ميں غلطي کي ہے، يعني وہ دوسروں کي مخالفت کرتا ہے، يا اس سے بيان کرتے ہوئے راويان مضطرب ہيں تو ايسي سند دوسري سند سے مل کر تقويت حاصل نہيں کر سکتي۔ اسے تطبيقي انداز ميں يوں سمجھا جا سکتا ہے کہ امام حاکم نے سفيان بن حسين عن الزہري ايک مرفوع حديث بيان کي ہے، پھر اس کا مرسل شاہد (ابن المبارک عن الزہري) ذکر کيا، اس مرفوع حديث ميں جس ضعف کا شبہ تھا اسے مرسل حديث سے دور کرنے کي کوشش کي۔ (المستدرک: 1/ 392۔ 393)
مگر حافظ ابن حجر اس مرفوع حديث کو اس مرسل روايت سے تقويت دينے کے قائل نہيں کيونکہ سفيان بن حسين، امام زہري سے بيان کرنے ميں متکلم فيہ ہے، بنابريں اس نے يہ روايت امام ابن المبارک کے برعکس مرفوع بيان کي ہے، حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہيں:
حديث حسن لغيرہ کي حجيت کےمتعلق اشکالا ت اور ان کے جوابات -5
جواب:
1۔ يہ بات کئي وجوہات کي بنا پر درست نہيں ہے۔ اس کے متعلق محدث سندھ شيخ الاسلام محب اللہ شاہ راشديؒ فرماتے ہيں:
’’ليکن ميرے محترم يہ کوئي کليہ تو نہيں کہ متقدم جو بھي کہے وہ صحيح ہوتا ہے اور جو ان سے متاخر کہے وہ صحيح نہيں ہوتا۔‘‘ (مقالات راشديہ ص :332)
نيز فرماتے ہيں:
’’کسي کا زمانے کے لحاظ سے متقدم ہونا يہ کوئي دليل نہيں کہ جو ان سے زمناً متاخر ہو اس کي بات صحيح نہيں۔ اعتبار تو دلائل کو ہے نہ کہ شخصيات کو۔‘‘ (ايضا: 333)
نيز کہا:
’’تو کيا آپ ايسے سب رواۃ (جن کي حافظ صاحب نے توثيق فرمائي اور ان کے بارے ميں متقدمين ميں سے کسي کي توثيق کي تصريح نہيں فرمائي) کے متعلق يہي فرمائيں گے کہ ان کي توثيق مقبول نہيں يہ ان کا اپنا خيال ہے؟ اگر جواب اثبات ميں ہے تو اس طرح آپ اس جليل القدر حافظ حديث اور نقد الرجال ميں استقراء تام رکھنے والے کي ساري مساعي جميلہ پر پاني پھير ديں گے۔ آپ خود ہي سوچيں کہ جناب کے اس نہج پر سوچنے کي زد کہاں کہاں تک پہنچ کر رہے گي۔‘‘ (ايضا: 335)
2۔ فضيلۃ الشيخ ابن ابي العينين فرماتے ہيں، جس کا خلاصہ درج ذيل ہے:
’’بعض طلبا جنھوں نے ماہر شيوخ سے بھي نہيں پڑھا وہ بعض نظري اقوال لے کر اپنے اصول و قواعد بنا رہے ہيں اور وہ کبار علما سے اختلاف کرتے ہيں۔ انھوں نے باور کرانے کي کوشش کي ہے کہ ہم متقدمين کے پيروکار ہيں اور انھوں نے متاخرين کے منہج کو غلط قرار ديا ہے۔۔۔۔‘‘ (القول الحسن، ص: 103)
3۔ متقدمين کي حسن لغيرہ کے متعلق کون سي بحثيں ہيں کن کے خلاف متاخرين نے اصول وضع کيے ہيں؟!
4۔ متاخرين نے علم متقدمين سے ہي ليا ہے اور وہ انھيں کے انداز سے اصول متعين کرتے ہيں ۔
محدثين کا اسماعيل بن ابي خالد کے عنعنہ کو قبول کرنا:
متعدد متقدمين محدثين نے اسماعيل بن ابي خالد کے بدونِ تدليس عنعنہ کو قبول کيا ہے۔اورہمارے اساتذہ کرام ميں سے بعض علماء ان کي عن روايات کو ضعيف کہتے ہيں مثلاديکھئے :’’اسماعيل بن ابي خالد عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين :36؍2 وھو من الثالثۃ)(انوار الصحيفۃ في الاحاديث الضعيفۃ من السن الاربعۃ :106ح2930،ص152ح4270،ص437
منھج متقدمين اور منھج متاخرين !
حسن لغيرہ کے مسئلے ميں کہا جاتا ہے کہ متقدمين کو ليا جائے گا ،،ہم متقدمين کي چند مثاليں پيش کرنا چاہتے ہيں ۔جن ميں متقدمين کي مخالفت کي جاتي ہے
تحقيق حديث ميں متقدمين کي مخالفت کي مثاليں
تنبیہ:سجدہ تلاوت کی دعا کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
حديث حسن لغيرہ کي حجيت کےمتعلق اشکالا ت اور ان کے جوابات -6
ابوہريرہ رضي اللہ عنہ سے روايت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سورہ فاتحہ کي قرات سے فارغ ہوتے تو اپني آواز بلند کرتے اور فرماتے :آمين ۔(صحيح ابن حبان :3؍147ح1803)
تحقيق
سند کي تحقيق
اسے درج ذيل محدثين نے صحيح کہا ہے ۔
1:ابن حبان (صحيح ابن حبان :3؍147ح1803)
2:ابن خزيمہ (صحيح ابن خزيمہ :1؍287)
3:حاکم (مستدرک حاکم :1؍223،معرفۃ السنن والآثار :1؍532)
4:ذھبي (تلخيص المستدرک :1؍223)
5:دارقطني (سنن الدارقطني :1؍335،وقال:ہذا اسناد حسن )
6:بيہقي (التلخيص الحبير :1؍236بلفظ :حسن صحيح )
7:ابن قيم (اعلام المؤقعين :2؍397)
8:ابن حجر (تلخيص الحبير ميں تصحيح نقل کرکے سکوت اختيار کيا ہے)
حافظ ابن حجر کا تلخيص ميں کسي حديث کو ذکر کے سکوت کرنا ديوبندي علماء کے نزديک صحيح يا حسن ہونے کي دليل ہے لہذا يہ حوالہ بطور الزام پيش کيا گيا ہے ۔
(ديکھئے قواعد في علوم الحديث للشيخ ظفر احمد تھانوي ص55،معارف السنن :1؍385،توضيح الکلام :1؍211 )
(امام زہري بہت کم تدليس کرتے تھے ۔(ميزان الاعتدال :4؍40)حافظ صلاح الدين کيکلدي نے جامع التحصيل ميں انھيں دوسرے طبقے ميں شمار کيا ہے جن کے عنعنہ (بعض )ائمہ نے (علت قادحہ نہ ہونے کي صورت ميں )قبول کيا ہے ،مولاناارشاد الحق اثري نے توضيح الکلام :1؍388۔390)ميں امام زہري کي تدليس کے اعتراضات کے جوابات دئے ہيں ۔)
تنبيہ :
ليکن ميري تحقيق ميں راجح يہي ہے کہ اما م زہري مدلس ہيں لہذا يہ سند ضعيف ہے ۔ليکن دوسرے شواھد کے ساتھ صحيح ہے۔(القول المتين ص26۔27)
قارئين نے ہمارا مقصود سمجھ ليا کہ يہ حديث متقدمين محدثين کے نزديک صحيح ہے ۔
1:داڑھي کے خلال کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمايا:’’ہکذا امرني ربي‘‘مجھے ميرے رب نے اسي طرح حکم ديا ہے ۔
اس کے متعلق لکھا گيا ۔اسنادہ ضعيف ۔وليد بن زوران :ليّن الحديث (تق:7423)وللحديث شاہد ضعيف عندا لحاکم (ج1ص149،ح529)فيہ الزہري مدلس (طبقات المدلسين :02ا۔3)و عنعن‘‘(انوار الصحيفۃ في الاحاديث الضعيفۃمن السنن الاربعۃ ص19ح145)
جواب :
تو آئيے جو علتيں اشکال ميں بيان کي گئي ہيں ان کا جواب ملاحظہ فرمائيں ۔
ہم بڑے ادب سے عرض کرنا چاہتے ہيں کہ يہ حديث صحيح ہے ضعيف کہنا درست نہيں ہے اس اجمال کي تفصيل درج ذيل ہے ۔
وليد بن زوران حسن الحديث راوي ہے کيونکہ امام ابن حبان نے اس کے ثقات ميں ذکر کيا ہے (ج7ص550)اور حافظ ذھبي نے بھي ثقہ کہا ہے ۔(الکاشف:6064)
اور صاحب انوار الصحيفہ نے اپنا قاعدہ بھي کتاب کے مقدمہ ميں ذکر کيا ہے کہ :’’لکن وثقہ المتساہلان فصاعدا ولم يضعفہ احد فھو حسن الحديث عندي ‘‘(مقدمہ انوار الصحيفہ ،ص6)ليکن جس راوي کو دو متساہل محدثين يا زيادہ ثقہ قرار ديں اور اس کو کسي نے ضعيف بھي نہ کہا ہو تو وہ ميرے نزديک حسن الحديث ہے ۔
اس قاعدے کے تحت بھي يہ راوي حسن الحديث ہوا کيو نکہ اس کو دو محدثين ثقہ کہ رہے ہيں اور کسي نے ان کو ضعيف نہيں کہا ۔صاحب انوارالصحيفہ نياس را وي کے بارے ميں حافظ ابن حجر کا قول نقل کيا کہ يہ راوي لين الحديث ہے۔اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ خود اس حديث کے متعلق فرماتے ہيں :
’’اسنادہ حسن لان الوليد وثقہ ابن حبان ولم يضعفہ احد وتابعہ عليہ ثابت البناني عن انس رضي اللہ عنہ ۔‘‘(النکت علي ابن الصلاح ج1ص423)اس کي سند حسن درجے کي ہے کيونکہ وليد بن مسلم کو امام ابن حبان نے ثقہ کہا ہے کسي نے بھي ان کو ضعيف نہيں کہا اور ثابت البناني نے ان کي متابعت کي ہے ۔
محترم کا يہ کہنا کہ اس کا ايک شاہد بي ہے اور اس کي سند ميں زہري مدلس ہيں اور وہ عن سے بيان کر رہے ہيں ۔تو عرض ہے کہ سلف وخلف محدثين ميں سے کسي نے بھي اس حديث کو زہري کے عن سے بيان کرنے کي وجہ سے ضعيف نہيں کہا بلکہ محدثين تو اس حديث کو صحيح کہ رہے ہيں مثلا ۔
1:امام حاکم نے کہا :’’اسنادہ صحيح‘‘(المستدرک :ج1ص276)
2:امام ضيا ء مقدسي نے کہا :’’اسنادہ صحيح ‘‘(الاحاديث المختارہ :ج3ص169،ح2710)
3:امام ابن قطان الفاسي نے کہا :’’ہذاالاسناد صحيح ‘‘(بيان الوہم والايھام :ج5ص220)
حافظ نووي نے کہا:’’اسنادہ حسن او صحيح‘‘(المجموع :ج1ص376)
4:حافظ ذ ہبي نے کہا :’’صحيح‘‘(تلخيص المستدرک ج1ص276)
5:حافظ ا بن قيم نے کہا :’’ہذا اسناد صحيح ‘‘(تہذيب سنن ابي داود :ج1ص76)
6:حافظ ابن حجرنے کہا :’’اسنادہ حسن‘‘(النکت :ج1ص423)
7:علامہ عبدالروف المناوي نے کہا :’’حسن‘‘(التيسير بشرح الجامع الصغير ج2ص276)
8:علامہ حمدي بن عبدالمجيد السلفي نے کہا :’’صحيح‘‘(تحقيق مسند الشاميين ج3ص6)
9:امام ناصر الدين الباني نے کہا :’’صحيح ‘‘(ارواء الغليل ج1ص130)
10:علامہ ابو عبيدہ مشہور حسن نے کہا :’’والحديث صحيح‘‘(تحقيق المجالسہ وجواہر العلم ج3ص323ح949)
تفصیل کا طالب :مقالات اثریہ کی طرف رجوع کرے ۔
Sunday, 31 March 2013
آئیں دینی کتب کی سماعت کریں عربی اور انگلش
انتظامیہ
17:34
0
comments
17:34
0
comments
بعض ساتھیوں کو کتب پڑھنے کی بجائے سننے کاشوق ہوتا ہے ۔
اپنے اس شوق کو قرآن و سنت پر مشتمل کتب کی آواز سننے سے پورا کریں
اس لنک سے کتب ڈاون لوڑ کرین اور سنیں :
Saturday, 30 March 2013
یہ سارا مسئلہ ہوا کس بات پر تھا؟؟؟۔ جواب از ؒشیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ
انتظامیہ
16:59
0
comments
16:59
0
comments
اصل میں حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے یزید کی مذمت سے متعلق ایک مرفوع حدیث کو حسن قرار دیا ۔
پھر میں نے اس کا رد لکھا ۔
پھر ایک بھائی نے شیخ زبیر حفظہ اللہ اور شیخ ندیم سے گفتگو کی اور گفتگو کے بعد انہوں نے ہمارے مضمون کا جواب دیا ۔
پھر میں نے اس کا جواب الجواب دیا ۔
پھر شیخ زبیرحفظہ اللہ نے بھی خود ہماری دونوں تحریروں کا جواب دیا ۔
اب باری میری ہے اور میں ان شاء اللہ شیخ زبیر حفظہ اللہ کے اس جواب کا بھی رد لکھوں گا لیکن یہ جواب بہت طویل ہے اس لئے ظاہر ہے کہ اس کے رد کے لئے بھی ہمارا اچھا خاصا وقت درکار ہے ۔
لہٰذا ہمارے جواب کے لئے قارئین کو کئی دن بلکہ کئی ہفتے بھی انتظار کرنے پڑسکتے ہیں ۔
یہ پورا معاملہ ہے ۔
بحوالہ:محدث فورم
ایک ظاہری تضاد از شیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ
انتظامیہ
16:53
0
comments
16:53
0
comments
شیخ صاحب ہم نےیہ کہیں بھی نہیں کہا کہ ابولعالیہ کا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے!
بلکہ ہم نے آپکے اصول میں جو ظاہری تضاد دیکھا اس کی وضاحت طلب کی تھی۔۔۔!
بہرحال آپکے جواب سےیہی ظاہر ہو رہا ہے کہ آپ ابوالعالیہ کے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سماع کے قائل ہیں۔ سو اپنے اصول کی روشنی میں ابوالعالیہ کے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سےعدم سماع کی استثنائیت کی وضاحت کردیں۔جزاک اللہ خیراً۔
استثنائیت کی وضاحت ہم کریں گے لیکن آپ بھی تو اپنے اصول سے استثنائیت کی وضاحت کریں ۔
بھائی ہم بھی تو آپ کے اصول میں ظاہری تضاد دیکھ رہے کہ وہ یہ کہ عبداللہ بن بریدہ کا اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع آپ نہیں مان رہے ہیں جبکہ معاصرت ثابت ہے اور یہی موقف حافظ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ کا بھی ہے ۔
فضیلة الشیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے اسے مندرجہ ذیل وجوہ کی بنا پر ضعیف قرار دیا ہے:
اسنادہ ضعیف
عبداللہ بن بریدہ لم یسمع من عائشہ کما قال الدارقطنی (السنن233/3،ح3517) والبیہقی (118/7) ودفاع ابن الترکمانی باطل لان الخاص مقدم علی العام۔وللحدیث شاھد ضعیف عندالنسائی فی الکبری (10714) فیہ سفیان الثوری مدلس وعنعن۔وشاھد آخر موقوف عندہ (10707) وسندہ ضعیف، فیہ ۔۔۔۔۔ عبداللہ بن جبیر وفیہ نظر ویقال: حنین ویقال:حسن۔!
(انوار الصحیفہ فی الاحادیث الضعیفہ من السنن الاربعہ مع الادلة،ص297)
اور آپ حافظ موصوف کے موقف کوغلط نہیں مان رہے ہیں ۔
تو ایک جگہ معاصرت کی بنیاد پر سماع ثابت کرنا اور ایک جگہ معاصرت کے باوجود سماع ثابت نہ ماننا کیا یہ ظاہری تضاد نہیں ہے؟؟؟
آپ اپنے ظاہری تضاد کی وضاحت کردیں پھر ہم اپنے ظاہر ی تضاد کی وضاحت کردیتے ہیں ۔
اورہوسکتا ہے کہ آپ کی وضاحت ہی مجھ ناچیز کی وضاحت بھی بن جائے ۔
جزاک اللہ خیرا
بحوالہ محدث فورم
بھائی ہم نے کب کہا کہ انہیں الفاظ میں آپ نے یہ بات کہی ہے لیکن آپ جس نکتہ پربحث اٹھانا چاہتے اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ ابوالعالیہ اور ابوذر رضی اللہ عنہ کی معاصرت کوسماع کی دلیل بنانا چاہتے ۔
آپ نے شروعات یہی سے کی تھی کہ کیا آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ابوالعالیہ کا سماع مانتے ہیں ؟
صاف ظاہر ہے کہ آپ معاصرت کاحوالہ دینا چاہتے ہیں ، اور یہ کہنا چاہتے کہ ابوالعالیہ کا سماع اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے تو ابوذر رضی اللہ عنہ سے ثابت کیوں نہیں ؟؟
اسی بنیاد پر ہم نے بھی دکھا یا کہ آپ بھی ایک مقام پر معاصرت ثابت ہونے کے باوجود سماع ثابت نہیں مان رہے ۔
لیکن اگر آپ یہ صراحت فرمارہے ہیں یہ سب کچھ کہنے سے آپ کا مقصد معاصرت سے سماع ثابت کرنا نہیں ہے توآپ کی صراحت سر آنکھوں پر ۔
لیکن ہم سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ اگرآپ نے اب تک یہ نہیں کہا تو اب ہمارے مطالبہ پر بتلادیجئے کہ :
کیا آپ معاصرت کو سماع کی دلیل سمجھتے ہیں؟؟؟؟؟
یادرہے ہم نے شروع میں ہی سوال کیا تھا:
اس کاجواب آپ نے نہیں دیا ۔
ہم کہتے ہیں اب سے جواب دے دیجئے معاملہ صاف ہوجائے گا۔
بھائی ہم نے کب کہا کہ انہیں الفاظ میں آپ نے یہ بات کہی ہے لیکن آپ جس نکتہ پربحث اٹھانا چاہتے اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ ابوالعالیہ اور ابوذر رضی اللہ عنہ کی معاصرت کوسماع کی دلیل بنانا چاہتے ۔
آپ نے شروعات یہی سے کی تھی کہ کیا آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ابوالعالیہ کا سماع مانتے ہیں ؟
صاف ظاہر ہے کہ آپ معاصرت کاحوالہ دینا چاہتے ہیں ، اور یہ کہنا چاہتے کہ ابوالعالیہ کا سماع اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے تو ابوذر رضی اللہ عنہ سے ثابت کیوں نہیں ؟؟
اسی بنیاد پر ہم نے بھی دکھا یا کہ آپ بھی ایک مقام پر معاصرت ثابت ہونے کے باوجود سماع ثابت نہیں مان رہے ۔
لیکن اگر آپ یہ صراحت فرمارہے ہیں یہ سب کچھ کہنے سے آپ کا مقصد معاصرت سے سماع ثابت کرنا نہیں ہے توآپ کی صراحت سر آنکھوں پر ۔
لیکن ہم سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ اگرآپ نے اب تک یہ نہیں کہا تو اب ہمارے مطالبہ پر بتلادیجئے کہ :
کیا آپ معاصرت کو سماع کی دلیل سمجھتے ہیں؟؟؟؟؟
یادرہے ہم نے شروع میں ہی سوال کیا تھا:
ہم کہتے ہیں اب سے جواب دے دیجئے معاملہ صاف ہوجائے گا۔
Friday, 29 March 2013
تمام حضرات بالخصوص اسماء الرجال میں دلچسپی رکھنے والے حضرات کی خدمت میں
انتظامیہ
05:09
0
comments
05:09
0
comments
تالیف:
شیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ
محترم حافظ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ نے میری تحریر سے ایک خاص ٹکڑا نقل کیا اورپھر اس کا رد کیا ہے ملاحظہ ہو:
۶)محترم کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ نے لکھا ہے:
’’ اور ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ابو مسلم کے سماع کا کوئی ثبوت قطعاً نہیں ‘‘
عرض ہے کہ ثبوت تو حسن لذاتہ سند کے ساتھ مسند احمد (۵/ ۱۷۹) اور مختصر قیام اللیل للمروزی (ص ۷۸) وغیرہما میں موجود ہے اور امام بخاری نے بھی فرمایا ہے کہ ابو مسلم نے ابو ذر (رضی اللہ عنہ) سے سنا ہے۔ (کتاب الکنیٰ ص ۶۸)
لہٰذا سماع کے انکار کا دعویٰ باطل ہے اور امام بخاری کے ارشاد سے یہی ظاہر ہے کہ امام بخاری بھی اسے ثابت سمجھتے تھے۔
پوری تحریر کا جواب تو متعلقہ تھریڈ میں ارسال کروں گا لیکن یہاں میں تمام حضرات خصوصا اسماء الرجال میں دلچسپی رکھنے والے حضرات کی خدمت میں ایک درخواست پیش کرنا چاہتاہوں وہ یہ کہ میری اس ادھوری عبارت سے آگے پیچھے پوری بات پڑھیں اور بتلائیں کہ کیاواقعی میرا یہی موقف و دعوی ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ سے ابومسلم کے سماع کا کوئی ثبوت نہیں ہے ؟؟؟
مذکورہ ٹکڑے سے آگے پیچھے کی پوری بات قارئین آگے ملاحظہ فرمائیں:
نیز شیخ البانی نے بھی اس متن کی اایک روایت کو صحیح قرار دیا ہے:
۔ " أول من يغير سنتي رجل من بني أمية ".
أخرجه ابن أبي عاصم في " الأوائل " (٧ / ٢) : حدثنا عبيد الله بن معاذ حدثنا أبي حدثنا عوف عن المهاجر أبي مخلد عن أبي العالية عن أبي ذر أنه قال ليزيد ابن أبي سفيان: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكره. قلت: وهذا إسناد حسن، رجاله ثقات رجال الشيخين غير المهاجر وهو ابن مخلد أبو مخلد، قال ابن معين: " صالح ". وذكره ابن حبان في " الثقات ". وقال الساجي: " صدوق ". وقال أبو حاتم: " لين الحديث ليس بذاك وليس بالمتقن، يكتب حديثه ".
قلت: فمثله لا ينزل حديثه عن مرتبة الحسن. والله أعلم. ولعل المراد بالحديث تغيير نظام اختيار الخليفة، وجعله وراثة. والله أعلم. ( سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ح:۱۷۴۹) ۲۔ "أول من يبدل سنتي رجل من بني أمية". "حسن". "ع" عن أبي ذر. الصحيحة 1749: ابن أبي عاصم. (صحیح الجامع:۲۵۲۸)
اولا:
شیخ البانی رحمہ اللہ عصرحاضر کے محدث ہیں اور ان کے فیصلہ کے برخلاف متقدمین محدثین نے بالاتفاق اس روایت کومردود قرار دیاہے، متقدمین کے متفقہ فیصلہ کے ہوتے ہوئے متاخرین کی بات کون سنے گا؟؟
ثانیا:
- شیخ البانی رحمہ اللہ نے جس روایت کو صحیح کہا ہے اس کا متن زیربحث روایت سے بہت مختلف ہے۔
- شیخ البانی کی تصحیح کردہ روایت میں یزیدبن ابی سفیان رضی اللہ عنہ پر گھناؤنا الزام نہیں ہے۔
- شیخ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح کردہ روایت میں سنت بدلنے والے شخص کا نام مذکور نہیں ۔
اتنے فرق ہونے کے باوجود بھی یہ کہنا محل نظرہے کہ :
نیز شیخ البانی نے بھی اس متن کی اایک روایت کو صحیح قرار دیا ہے
ثالثا:
شیخ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح کردہ سند عبدالوھاب والی نہیں ہے ، یہ سند صریحا منقطع ہے کیونکہ اس میں ابومسلم اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے مابین کسی واسطے کاذکر نہیں ،اور ابوذر رضی اللہ عنہ سے ابومسلم کے سماع کا کوئی ثبوت قطعا نہیں ، ناقدین محدثین نے واضح طور پر یہاں انقطاع کی صراحت کی ہے ۔
رابعا:
یہ روایت ابن ابی عاصم میں مختصر ہے اور ابن عساکر میں مفصل ہے اور اس کی روشنی میں یہ روایت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اسی جگہ بیان کی ہے جہاں امام بخاری کے کے بقول ابوذر رضی اللہ عنہ بیان ہی نہیں کرسکتے لہٰذا یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے ۔
آگے پیچھے کی مکمل بات جیسے اصل مقام پر تھی میں نے اوپر جوں کا توں نقل کردیا ہے ۔
اب اسی پوسٹ کو آگے دوبارہ نقل کرتاہوں اور کچھ مقامات پر الفاظ کے نیچے خط کھینچتا ہوں، اسی طرح کچھ الفاظ کو ہائی لائٹ کرتاہوں ۔
قارئین سے گذارش ہے کہ خط کشیدہ الفاظ کو سامنے رکھ کر پورے سیاق سے اسے جوڑیں اسی طرح ہائی لائٹ کردہ الفاظ کو ایک ساتھ سامنے رکھ کر پورے سیاق سے اسے جوڑیں ، اور پھرنتیجہ نکالیں کہ اصل معاملہ کیاہے؟؟
نیز شیخ البانی نے بھی اس متن کی اایک روایت کو صحیح قرار دیا ہے:
۔ " أول من يغير سنتي رجل من بني أمية ".
أخرجه ابن أبي عاصم في " الأوائل " (٧ / ٢) : حدثنا عبيد الله بن معاذ حدثنا أبي حدثنا عوف عن المهاجر أبي مخلد عن أبي العالية عن أبي ذر أنه قال ليزيد ابن أبي سفيان: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكره. قلت: وهذا إسناد حسن، رجاله ثقات رجال الشيخين غير المهاجر وهو ابن مخلد أبو مخلد، قال ابن معين: " صالح ". وذكره ابن حبان في " الثقات ". وقال الساجي: " صدوق ". وقال أبو حاتم: " لين الحديث ليس بذاك وليس بالمتقن، يكتب حديثه ".
قلت: فمثله لا ينزل حديثه عن مرتبة الحسن. والله أعلم. ولعل المراد بالحديث تغيير نظام اختيار الخليفة، وجعله وراثة. والله أعلم. ( سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ح:۱۷۴۹) ۲۔ "أول من يبدل سنتي رجل من بني أمية". "حسن". "ع" عن أبي ذر. الصحيحة 1749: ابن أبي عاصم. (صحیح الجامع:۲۵۲۸)
اولا:
شیخ البانی رحمہ اللہ عصرحاضر کے محدث ہیں اور ان کے فیصلہ کے برخلاف متقدمین محدثین نے بالاتفاق اس روایت کومردود قرار دیاہے، متقدمین کے متفقہ فیصلہ کے ہوتے ہوئے متاخرین کی بات کون سنے گا؟؟
ثانیا:
- شیخ البانی رحمہ اللہ نے جس روایت کو صحیح کہا ہے اس کا متن زیربحث روایت سے بہت مختلف ہے۔
- شیخ البانی کی تصحیح کردہ روایت میں یزیدبن ابی سفیان رضی اللہ عنہ پر گھناؤنا الزام نہیں ہے۔
- شیخ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح کردہ روایت میں سنت بدلنے والے شخص کا نام مذکور نہیں ۔
اتنے فرق ہونے کے باوجود بھی یہ کہنا محل نظرہے کہ :
نیز شیخ البانی نے بھی اس متن کی اایک روایت کو صحیح قرار دیا ہے
ثالثا:
شیخ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح کردہ سند عبدالوھاب والی نہیں ہے ، یہ سند صریحا منقطع ہے کیونکہ اس میں ابومسلم اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے مابین کسی واسطے کاذکر نہیں ،اور ابوذر رضی اللہ عنہ سے ابومسلم کے سماع کا کوئی ثبوت قطعا نہیں ، ناقدین محدثین نے واضح طور پر یہاں انقطاع کی صراحت کی ہے ۔
- ناقد نے تحریر پڑھنے میں تساہل سے کام لیا ہے ۔
- ناقد کے پاس اتنی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں کہ سیاق وسباق سے سبقت قلم کی غلطیاں پکڑسکے۔
- ناقد نے اصل بات سمجھ لی ہے کہ سبقت قلم کی غلطی ہے لیکن اس غلطی کو غنیمت جان کر عام قارئین کے سامنے بلاوجہ مضمون نگار کو مطعون کرنے کی کوشش کی ہے۔
ہم تمام قارئین بالخصوص اسماء الرجال سے دلچسپی رکھنے والے حضرات سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بتلائیں کہ جو دعوی ہماری طرف منسوب کیا گیا ہے کیا فی الحقیقت یہ دعوی ہماری مجموعی تحریر سے مطابقت رکھتا ہے ؟؟سبقت قلم کی غلطی سے ہمیں انکار نہیں ہے لیکن کیا سیاق وسباق سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اصل مضمون نگار کا کیا مقصود ہے؟؟ان شاء اللہ ہم عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مستنداہل علم کی عدالت میں بھی اپنا یہ مقدمہ پیش کریں گے اور پوچھیں گے سیاق وسباق ہماری سبقت قلم کی غلطی پر دلالت کرتا ہے یا نہیں ؟؟؟ اگر جمہور اہل علم یہ کہہ دیں کہ سیاق وسباق سبقت قلم کی غلطی کی طرف اشارہ نہیں کرتا تو میں اپنی کوتاہی تعبیر کا معترف ہوں گا۔لیکن اگر جمہور اہل علم شہادت دیں کہ سیاق وسباق اور مجموعی تحریر اسی پر دلالت کرتی ہے کہ مضمون نگار ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ابوالعالیہ کے سماع کا قائل نہیں ، لیکن اس کی سبقت قلم سے ابوالعالیہ کہ جگہ ابومسلم تحریر ہوگیا تو ایسی صورت میں بھی اگرکوئی غلط تحریر شدہ لفظ کی تصحیح کئے بغیر اسے تنقید کا نشانہ بنالے یا کسی بھی مضمون نگار کی تحریر کے ساتھ اس طرح کی ناانصافی کرے تو عام طور سے اس کی درج ذیل وجوہات ہوسکتی ہے :
موخر الذکر دو وجوہات عام طور سے ان لوگوں کے یہاں بکثرت ہوتی ہیں جو صرف سبقت قلم ہی نہیں بلکہ کمپوزنگ کی غلطیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا لیتے ہیں ،چونکہ نقد ایک عظیم محدث شیخ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ کا ہے اس لئے ان کے بارے میں ہم حسن ظن ہی رکھیں گے کہ موصوف نے ہماری تحریر پڑھنے میں تساہل سے کام لیا ہے ، اور سبقت قلم کی غلطی پر آگاہ نہیں ہوسکے۔واضح رہے خود شیخ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ سے بھی بعض مقامات پر سبقت قلم کی غلطیاں ہوئی ہیں اوربعد میں اس کی اصلاح بھی کی گئی ہے۔بہرحال ہم سبقت قلم کی اس غلطی سے برات کا اعلان کرتے ہیں اور اس غلطی کی تصحیح کرتے ہوئے یہ دعوی کرتے ہیں کہ:’’ اور ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ابو العالیہ کے سماع کا کوئی ثبوت قطعاً نہیں ‘‘اسد بھائی سے گذارش ہے کہ ہماری طرف سے یہ اعلان برات شیخ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ تک پہنچادیں ، اور ہمارا اصل دعوی کیا ہے اس سے شیخ کو باخبر کریں تاکہ ہمیں اپنی اصل بات کا جواب مل سکے ۔واضح رہے کہ بعض روافض نے ابوذررضی اللہ عنہ سے ابوالعالیہ کے سماع کے لئے امام ذہبی وغیرہ کے بعض حوالے دئے ہیں ان پر ہماری نظر ہے لیکن یہ سارے حوالے ہماری نظر میں محل نظر ہیں ۔